عمر عبد اللہ کی طرح ان کا ٹوئٹر ہینڈل بھی نصف برس سے مسلسل خاموش

عمر عبداللہ کے ٹوئٹر پر زائد از 30 لاکھ فالوورس ہیں جبکہ خود وہ 4 سو 67 افرد کو فالو کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر ہینڈل پر آخری ٹوئٹ 5 اگست کو ہی کیا تھا جو اس وقت کے سایہ فگن مخدوش صورتحال کے متعلق ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جہاں خود سال گزشتہ کے پانچ اگست سے سیاسی منظر نامے سے مسلسل اوجھل ہیں وہیں ان کا ٹوئٹر ہینڈل، جس پر وہ ہر معاملے پر فوری طور پر ٹوئٹ کرنے کے لئے مشہور تھے، بھی نصف برس سے غیر متحرک اور غیر فعال ہیں تاہم پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر ہینڈل کو ان کی صاحبزادی نے متحرک رکھا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست 2019 کے جموں و کشمیر کو دفعہ 370 و دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے اعلان سے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی مسلسل نظر بند ہیں۔

عمر عبداللہ کا ٹوئٹر ہینڈل ما قبل پانچ اگست 2019 اس قدر متحرک تھا کہ سیاسی ناقدین انہیں 'ٹوئٹر ٹائیگر' کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ کسی بھی چھوٹے بڑے معاملے یا سرگرمی پر فوری طور پر ٹوئٹ کرکے اپنا نقطہ نگاہ ظاہر کرنا ان کا طرہ امتیاز تھا لیکن پانچ اگست 2019 سے ان کا ٹوئٹر ہینڈل ان ہی کی طرح خاموش ہے۔

عمر عبداللہ کے ٹوئٹر پر زائد از 30 لاکھ فالوورس ہیں جبکہ خود وہ 4 سو 67 افرد کو فالو کرتے تھے۔ انہوں نے ٹوئٹر ہینڈل پر آخری ٹوئٹ پانچ اگست کو ہی کیا تھا جو اس وقت کے سایہ فگن مخدوش صورتحال کے متعلق ہے۔ سیاسیات کے ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ عصر عبداللہ حاضر کے ہائی ٹیک دور میں جب بین الاقوامی سطح پر سیاسی لیڈران ٹوئٹ کرکے ہی نہ صرف ملکی و عالمی امور پر رائے زنی کرتے ہیں بلکہ فیصلے بھی لیتے ہیں ایسی صورتحال میں عمر عبداللہ کا ٹوئٹر ہینڈل غیر متحرک رہنا قومی سیاست کے لئے باعث تشویش ہی ہے۔

بتادیں کہ حال ہی میں عمر عبداللہ کی دراز داڑھی والی تصویر وائرل ہوئی جس پر جو جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر گرم بحث و مباحثے کا باعث بھی بن گئے وہیں دوسری طرف بعض سیاسی لیڈروں نے تصویر دیکھ کر اظہار تشویش بھی کیا۔ دریں اثنا پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلی اگرچہ خود سال گزشتہ کے پانچ اگست سے مسلسل نظر بند ہی ہیں تاہم ان کا ٹوئٹر ہینڈل ان کی صاحبزادی التجا مفتی متحرک رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ التجا مفتی نے اپنی والدہ کے ٹوئٹر ہینڈل کو پہلے سے بھی زیادہ متحرک رکھا ہوا ہے۔

محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر پر 2 لاکھ 78 ہزار فالوورس ہیں جبکہ خود وہ صرف 1 سو 45 افرد کو فالو کر رہی تھیں۔ التجا مفتی نے اپنی والدہ محبوبہ مفتی کا ٹوئٹر ہینڈل استعمال کرنے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 'سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جس کا یہ ٹوئٹر ہینڈل ہے، پانچ اگست سے نظر بند ہیں اور ان کی اس اکاونٹ تک رسائی نہیں ہے، اب میں اُن کی صاحبزادی التجا مفتی یہ ٹوئٹر ہینڈل ان کی اجازت سے چلا رہی ہوں'۔

قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ نے 24 جنوری کو وادی میں ٹو جی موبائل انٹرنیٹ خدمات اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سہولیات بحال کرنے کے لئے ایک حکم نامہ جاری کیا اگرچہ حکم نامے کے مطابق ٹو جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال ہوئی ہے لیکن سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل نے وادی میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سہولیات بحال کرنے سے فی الوقت ہاتھ کھڑے کیے ہیں تاہم نجی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرس نے براڈ بینڈ انٹرنیٹ سہولیات بحال کرنے کا سلسلہ جاری کیا ہے۔