وہ خط جو سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے چیف جسٹس کو لکھا...

سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے چیف جسٹس آف انڈیا پر اٹھائے سوال

سپریم کورٹ کے 4 سینئر ججوں نے پریس کانفرنس کے بعد چیف جسٹس دیپک مشرا کو تحریر کردہ سات صفحات پر مبنی خط میڈیا کو دکھایا جس میں انھوں نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

سپریم کورٹ کی تاریخ میں آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے 4 سینئر ججوں کو پریس کانفرنس کر کے یہ بتانا پڑا کہ سپریم کورٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے 4 سینئر ججوں نے پریس کانفرنس کے بعد چیف جسٹس دیپک مشرا کو تحریر کردہ سات صفحات پر مبنی خط سب کے سامنے یپش کیا۔ اس میں انھوں نے چیف جسٹس سے متعلق کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ہم اپنے قارئین کے لیے اس خط کے اہم حصوں کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کر رہے ہیں۔

محترم چیف جسٹس،

بڑی ناراضگی اور فکر کے ساتھ ہم نے یہ خط آپ کے نام لکھنے کا سوچا ہے تاکہ اس عدالت سے جاری کیے گئے کچھ ایسے احکامات کو سامنے لایا جا سکے جنھوں نے انصاف دینے کے پورے طور طریقوں اور ہائی کورٹ کی آزادی کے ساتھ ساتھ ملک کے سپریم کورٹ کے کام کرنے کے طور طریقوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

کلکتہ، بمبئی اور مدراس میں تین ہائی کورٹ قائم ہونے کے بعد عدالتی نظام میں کچھ روایتوں اور اعتقادوں پر عمل ہو رہا ہے اور جو اچھی طرح قائم ہیں۔ ان ہائی کورٹس کے قیام کی ایک دہائی بعد سپریم کورٹ وجود میں آیا ہے۔ یہ وہ روایتیں ہیں جن کی جڑیں اس سے پہلے بھی عدالتی نظام میں موجود تھیں۔

اچھی طرح قائم اصولوں میں ایک اصول یہ بھی ہے کہ روسٹر کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار چیف جسٹس کا ہوتا ہے تاکہ یہ نظام بنا رہے کہ اس عدالت کا کون رکن اور کون بنچ کس معاملے کو دیکھے گی۔ یہ روایت اس لیے بنائی گئی تاکہ عدالت کا کام ڈسپلن کے ساتھ اور اثرانداز طریقے سے ہو۔ یہ روایت چیف جسٹس کو اپنے ساتھیوں کے اوپر اپنی بات تھوپنے کا اختیار نہیں دیتی۔

ملک کے عدالتی نظام میں یہ بات بھی بہت اچھی طرح سے صاف ہے کہ چیف جسٹس اپنے ساتھی ججوں میں اول مقام رکھتے ہیں، وہ ان سے نہ کم ہیں نہ زیادہ۔ روسٹر طے کرنے کے معاملے میں پہلے سے معین اور جاری روایتیں یہی ہیں کہ چیف جسٹس کسی معاملے کی ضرورت کے مطابق بنچ منتخب کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ اس اصول کے بعد اگلا قدم یہ ہے کہ اس عدالت سمیت الگ الگ عدالتی یونٹس ایسے کسی معاملے سے خود نہیں نمٹ سکتیں جن کی سماعت کسی مناسب بنچ سے ہونی چاہیے۔ ان دونوں ضابطوں کو نظر انداز کرنے سے نامناسب اور غلط نتائج سامنے آئیں گے جس سے عدالت پرسے بھروسہ ختم ہوگا۔ ساتھ ہی ان ضابطوں کو ہٹانے سے جو ہنگامہ ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔

ہم بہت افسوس کے ساتھ آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ وقت سے جن دو ضابطوں کی بات ہو رہی ہے ان پر پوری طرح عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایسے کئی معاملے ہیں جن میں ملک اور انسٹی ٹیوشن پر اثر ڈالنے والے مقدمے اس عدالت کے چیف جسٹس نے ’اپنی پسند کی بنچ‘ کے سپرد کیے اور ان کے پیچھے کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔ ہر حال میں اسے درست کرنا چاہیے۔

ہم اس پورے معاملے کی تفصیلات اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی، لیکن یہاں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ ضابطوں پر عمل نہ کرنے سے پہلے ہی کافی حد تک اس کی شبیہ کو نقصان پہنچ چکا ہے۔

اس ضمن میں ہم آپ کی توجہ 27 اکتوبر 2017 کو دیے گئے آر پی لوتھرا بنام ہندوستانی جمہوریت معاملے کی جانب متوجہ کرانا چاہتے ہیں۔ اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ مفاد عامہ کو دیکھتے ہوئے میمورینڈم آف پروسیڈر کو آخری شکل دینے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ جب میمورینڈم آف پروسیڈر، سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسو سی ایشن اینڈ اے این آر بنام ہندوستانی جمہوریت معاملے میں آئینی بنچ کا حصہ تھا، تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کوئی اور بنچ یہ معاملہ کیوں دیکھے گی؟

اس کے علاوہ آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد آپ سمیت پانچ ججوں کے کالیجیم نے تفصیلی بحث کی تھی اور میمورینڈم آف پروسیڈر کو آخری شکل دے کر مارچ 2017 میں چیف جسٹس نے اسے حکومت ہند کے پاس بھیج دیا تھا۔ حکومت ہند نے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا اور اس خاموشی کو دیکھتے ہوئے یہ مانا جانا چاہیے کہ حکومت ہند نے سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسو سی ایشن معاملے میں اس عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر میمورینڈم آف پروسیڈر کو قبول کر لیا ہے۔

اس لیے کسی بھی مقام پر بنچ کو میمورینڈم آف پروسیڈر کو آخری شکل دینے سے متعلق کوئی انتظام نہیں کرنا چاہیے تھا یا پھر اس معاملے کو غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ٹالا جا سکتا۔

چار جولائی 2017 کو اس عدالت کے سات ججوں کی بنچ نے عزت مآب جسٹس سی ایس کرنن سے متعلق فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے میں (آر پی لوتھرا کے معاملے میں) ہم دونوں نے سہولت دی تھی کہ ججوں کی تقرری کے عمل پر دوبارہ غور کیے جانے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی مواخذہ سے الگ طریقوں کا نظام بھی بنایا جانا چاہیے۔ میمورینڈم آف پروسیڈر سے متعلق ساتوں ججوں کی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

میمورینڈم آف پروسیڈر سے متعلق کسی بھی ایشو پر چیف جسٹس کے سمیلن اور عدالت میں غور کیا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ کافی اہم ہے اور اگر عدلیہ کو اس پر غور کرنا ہے تو صرف آئینی بنچ کو یہ ذمہ داری ملنی چاہیے۔

ان واقعات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ عزت مآب چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلہ کا حل نکالیں اور کالیجیم کے دوسرے اراکین کے ساتھ اور بعد میں اس عدالت کے عزت مآب ججوں کے ساتھ رائے مشورہ کرنے کے بعد اصلاحی قدم اٹھائیں۔

ایک مرتبہ آپ کی طرف سے آر پی لوتھرا بنام ہندوستانی جمہوریت سے منسلک 27 اکتوبر 2017 کے حکم کے معاملے کو نمٹا لیا جائے پھر اس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو ہم آپ کو اس عدالت کی جانب سے دوسرے ایسے عدالتی احکامات کے بارے میں بتائیں گے جن سے اسی طرح نمٹا جانا چاہیے۔

بصد خلوص

جے چیلامیشور، رنجن گوگوئی، مدن بی لوکُر، کورین جوسف

سب سے زیادہ مقبول