’آئیے، ہم عہد کریں... ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر کو کمزور نہیں ہونے دیں گے‘، انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں کھڑگے کی اپیل

کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کی جمہوری بنیاد اس اصول پر قائم ہے کہ ہر شہری کو حکومت منتخب کرنے میں برابر کی آواز حاصل ہو۔

<div class="paragraphs"><p>انڈیا اتحاد کی میٹنگ کا منظر، تصویر بشکریہ کانگریس میڈیا سیل</p></div>
i

آج دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ’انڈیا اتحاد‘ کی انتہائی اہم میٹنگ ہوئی، جس میں کانگریس کے علاوہ سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس، این سی پی (ایس پی)، شیوسینا (یو بی ٹی)، آر جے ڈی، سی پی ایم، سی پی آئی، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، جے ایم ایم، سی پی آئی-ایم ایل، آئی یو ایم ایل، کیرالہ کانگریس (ایم)، ڈی ایم کے، وی سی کے، آر ایس پی، کیرالہ کانگریس (جے) اور اے آئی ایف بی کے سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکز کی مودی حکومت کو کئی محاذ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

کھڑگے نے انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں خاص طور سے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، الیکشن کمیشن کی کارکردگی، ای وی ایم اور ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل میں شفافیت کو کمزور کیا جا رہا ہے اور عام ووٹرز کے جمہوری حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیوں نے انتخابی عمل سے متعلق 6 اہم مطالبات بھی پیش کیے۔


میٹنگ میں اپنی بات رکھتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کی جمہوری بنیاد اس اصول پر قائم ہے کہ ہر شہری کو حکومت منتخب کرنے میں برابر کی آواز حاصل ہو۔ دستور ساز اسمبلی نے بھی جمہوریت کی نمائندگی کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا اور اسی لیے ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ جمہوری نظام کے مرکز میں ہے۔ ان کے مطابق آج یہ بنیادی اصول سنگین خطرے سے دوچار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں شہری اور سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے ای وی ایم، ووٹر لسٹ میں مبینہ ہیرا پھیری اور الیکٹورل رول میں غیر واضح تبدیلیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے، لیکن کمیشن نے شکایات کو نظر انداز کیا۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی نے مہادیوپورہ، آلند، ہریانہ اور مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ سے متعلق اپنے الزامات کے ثبوت پیش کیے تھے، جبکہ انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے بھی اس سلسلے میں اعتراضات اٹھائے، لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

کانگریس صدر نے ایس آئی آر پر سب سے زیادہ سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اسے ووٹر لسٹ کو درست اور اپڈیٹ کرنے کی مشق قرار دیتا ہے، لیکن اگر اس عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام حذف ہو جائیں یا انہیں دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کیا جائے تو یہ ذمہ داری نظام کی ہونی چاہیے کہ کوئی حقیقی ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ 13.3 کروڑ ووٹرز کے نام انتخابی فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں اور ان سے جمہوریت میں حصہ لینے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ ووٹر لسٹ سے متعلق حالیہ رپورٹس میں بھی 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف ہونے کے معاملے پر اپوزیشن کے اعتراضات سامنے آئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلوں کو قانونی طریقہ کار کے مطابق قرار دیا ہے۔


راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کھڑگے نے کہا کہ حکومت میں کون آئے، اس کا فیصلہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو نہیں بلکہ عام ووٹرز کو کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، منمانے یا ناکافی نگرانی والے عمل کے ذریعے انتخابی نظام سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی ووٹر کا نام حذف کیا جاتا ہے تو اسے بتایا جانا چاہیے کہ نام کیوں اور کس بنیاد پر حذف کیا گیا۔

کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے 2 ساتھی الیکشن کمشنرز نے 10 ماہ میں 14 مرتبہ اعتراضات درج کرائے، جس سے ان کے بقول الیکشن کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر سوال اٹھتے ہیں۔ کانگریس صدر نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے 2023 میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق قانون لا کر چیف جسٹس آف انڈیا کو تقرری کے پینل سے باہر کر دیا اور ان کی جگہ ایک مرکزی وزیر کو شامل کیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنرز کو حاصل قانونی تحفظ پر بھی سوال اٹھایا اور الزام لگایا کہ اس کا مقصد ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دینا ہے جو حکومت کے لیے سازگار ہو۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت کا ذمہ دار قرار دیا۔ یہ الزامات کانگریس کے سیاسی موقف کا حصہ ہیں، جبکہ حکومت اور الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔


کانگریس صدر نے نوجوان ووٹرز کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلی مرتبہ ووٹ دینے والوں کے اندراج کے لیے فارم 6 کے قواعد میں تبدیلی کر کے نوجوانوں کے لیے ووٹر بننے کا عمل مشکل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو نوجوانوں کی آواز اور ان کے ووٹ کی ضرورت ہے اور پہلی بار ووٹ دینے والوں کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں فوری طور پر ختم کی جانی چاہئیں۔

ای وی ایم کے بارے میں کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کا موقف واضح ہونا چاہیے اور ملک میں دوبارہ بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ کی طرف واپس جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس سے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں بیلٹ پیپر سے ووٹنگ اپنانے کو بھی اہم مطالبے کے طور پر شامل کیا گیا۔


کھڑگے نے آخر میں کہا کہ انڈیا اتحاد کو اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ شفافیت کی جگہ راز داری کو نہیں لینے دیا جائے گا اور جمہوری نظام کے بنیادی اصول ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کو کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ بھی عوام کا ہے، مینڈیٹ بھی عوام کا ہے اور حکومت کی طاقت کا آخری سرچشمہ بھی عوام ہی ہیں۔ ان کے مطابق انڈیا اتحاد کی ذمہ داری ہے کہ ہندوستان کے عوام کو جمہوریت میں حتمی اور غیر متنازعہ اختیار حاصل رہے۔

انڈیا اتحاد کے 6 مطالبات

میٹنگ میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے 6 مطالبات پیش کیے گئے۔ ان میں (1) ایس آئی آر سے پہلے کی انتخابی فہرست کو آئندہ انتخابات میں استعمال کرنا، (2) انتخابی فہرست میں ہر ترمیم کی مکمل شفافیت، (3) نام حذف کرنے سے پہلے ووٹر کو اطلاع اور اپیل کا مؤثر موقع دینا، (4) انتظامی خامیوں یا دستاویزات کی کمی کے سبب اہل ووٹروں کو محروم ہونے سے بچانا، (5) ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ اور (6) نوجوانوں، خاص طور پر پہلی بار ووٹ دینے والوں کے لیے آسان ووٹر رجسٹریشن شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔