بابری مسجد برسی: مذہبی جنون نہیں ہوش و حواس کی ضرورت... ظفر آغا

بابری مسجد کی برسی کے ایک دن بعد تلنگانہ کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں، وہاں اگر مسلم ووٹر جذبات کے بجائے سیاسی سوجھ بوجھ سے کام لیتا ہے تو بس یہی سمجھئے کہ بابری مسجد کے امتحان میں کامیاب ہو گئے۔

By ظفر آغا

اللہ کی پناہ، 6 دسمبر 1992 کی وہ رات جب ایودھیا میں بابری مسجد گرائی جا چکی تھی اور ہندوستان کا ایک بڑا حصہ کرفیو کی آغوش میں تھا۔ چہار سو دنگوں کی آگ بھڑک رہی تھی اور اس ملک کی مسلم اقلیت جان کی پناہ مانگ رہی تھی۔ اس واقعہ کو آج 26 برس گزر گئے ہیں لیکن بابری مسجد اور رام مندر تنازعہ کی آڑ میں سنگھ پریوار نے جس سیاست کی داغ بیل رکھی وہ سیاست آج بھی نہ صرف جاری وہ ساری ہے بلکہ اپنے عروج پر ہے۔ بابری مسجد کو گرواتے وقت ہندوتوا کے ہیرو لال کرشن اڈوانی تھے۔ آج لال کرشن اڈوانی کا کہیں ذکر نہیں، کیوں کہ اب بابری مسجد کہیں نہیں۔ آج سنگھ اور ہندوتوا کے ہیرو ہیں نریندر مودی جو بطور ہندو ہردے سمراٹ اپنے کاندھوں پر بی جے پی کو اٹھا کر اقتدار کے اس مقام پر لا چکے ہیں جہاں سے رام مندر تعمیر کا کام شروع ہونا ہے۔

لیکن سنگھ پریوار کے لئے رام مندر محض جذبات و اعتماد کا ایشو نہیں ہے۔ سنگھ کے لئے مذہب و سیاست ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ اس لئے اب رام کا نام لے کر وہ نریندر مودی کو ہندوستان کا وزیر اعظم پھر سے بنوانے کی کوشش میں ہیں۔ پورے آثار ہیں کہ سنگھ 2019 کا لوک سبھا چناؤ رام مندر ایشو پر لڑے گا۔ اس کی پوری تیاری شروع ہو چکی ہے۔ وشو ہندو پریشد سادھو اور سنتوں کو استعمال کر ہندو جذبات بھڑکانے کا کام شروع کر چکی ہے۔ آج سے تین چار دنوں کے بعد دہلی کے رام لیلا میدان پر سادھوؤں کا ایک بڑا جلسہ ہونے والا ہے۔ وہاں سے سنت مودی حکومت سے ایک نیا قانون بنا کر ایودھیا میں رام مندر تعمیر شروع کروانے کی اپیل کریں گے۔ پھر جنوری میں الہ آباد میں کمبھ میلے میں پوری طرح رام مندر ایشو پر فوکس ہوگا۔

الغرض رام اور سیاست اب ایک سکے کے دو رخ ہو چکے ہیں۔ لیکن سیاست اس وقت تک ویسے ہی پوری نہیں ہوتی جیسے کہ رام راون کے بنا پورے نہیں ہوتے۔ یعنی رام اس وقت ہیرو (اوتار) کا روپ لیتے ہیں جب ان کے سامنے راون جیسا ایک ویلن کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح بھگوان رام کی سیاست اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اس میں کوئی ویلن سامنے نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے ایودھیا کی سیاست اسی وقت کامیاب ہوگی جب اس میں ایک مسلم ویلن ہو۔

چھ دسمبر 1992 سے قبل یہ رول خود بابری مسجد کے وجود اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے ادا کیا تھا۔ ان دونوں سے ہی ہندو ؤں کو غصہ ہو رہا تھا اور اسی غصہ کا فائدہ اٹھا کر اس وقت بابری مسجد منہدم کر دی گئی اور اس سیاست سے بی جے پی کے لئے مرکزی اقتدار کا راستہ کھل گیا۔

اب نہ بابری مسجد ہے اور نہ ہی بابری مسجد ایکشن کمیٹی۔ اگر ویلن سامنے نہیں تو ’راون ودھ ‘ نہیں ہوگا اور راون ودھ نہیں تو پھر ہندو سیاست کس کے بلبوتےپر کی جائے! 6 دسمبر 1992 سے لے کر 6 دسمبر 2018 تک ہندوستان کی سیاست میں اگر یہ فرق آیا ہے کہ ہندوتوا کو نریندر مودی جیسا قدآور لیڈر مل گیا تو اسی کے ساتھ ساتھ ایک نمایا ں فرق یہ بھی آیا کہ مسلم اقلیت کو اس 26 برس کے عرصے میں سیاسی سوجھ بوجھ آ گئی۔ آج مسلم اقلیت کسی بابری مسجد ایکشن کمیٹی جیسی جذباتی تنظیم کے اشاروں پر اپنے ہوش و حواس کھونے کو راضی نہیں۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد گئی وہ ایک المیہ تھا۔ لیکن اس سے قبل 1857 جیسے المیہ کے بعد بھی ہندوستانی مسلما ن کو سیاسی سوجھ بوجھ نہیں آئی تھی۔ کیونکہ اگر سیاسی سوجھ بوجھ آگئی ہوتی تو سن 1947 میں ہندوستانی بر صغیر کا مسلمان پاکستان جیسی غلطی نہیں کرتا۔ مگر بابری مسجد انہدام سے آج تک مسلمان جس سیاسی سوجھ بوجھ کا استعمال کر رہا ہے اس کا استعمال اس نے جدید تاریخ میں کبھی نہیں کیا۔

بابری مسجد اور گجرات نے مسلم اقلیت کو یہ سبق دیا کہ سیاست جذبات نہیں عقل کا کھیل ہے۔ ان 26 برسوں میں بہت کچھ ہو گیا۔ سن 1992 کے ہندو مسلم فسادات، پھر سن 1993 میں ممبئی کی خونریزی اور اس کے بعد 2002 میں گجرات کی نسل کشی۔ مودی حکومت میں موب لنچنگ کی تلوار سر پر ہے لیکن اس کڑے امتحان میں اگر ایک پوری قوم کو عقل آ گئی تو سمجھئے مسلمانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔

لیکن ابھی بھی ایک امتحان باقی ہے۔ بابری مسجد کی برسی کے عین ایک دن بعد یعنی 7 دسمبر کو تلنگانہ کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ وہاں اگر مسلم ووٹر جذبات کے بجائے سیاسی سوجھ بوجھ سے کام لیتا ہے تو بس یہی سمجھئے کہ بابری مسجد کے امتحان میں کامیاب ہو گئے۔