مودی کی ریلی میں لگے ’چوکیدار چور ہے‘ کے نعرہ

پی ایم مودی کی ریلی کے لئے کئی اضلاع سے بلائے گئے کارکنان، پھر بھی خالی رہا میدان، امید واروں کی بڑھی مشکلیں۔ لوگوں کی کم تعداد دیکھ کر یوگی مودی کا موڈ ہوا خراب۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

ابو ہریرہ

علی گڑھ: بھائیو، بہنو! ملک میں ایک مضبوط سرکار ہونی چاہیے کہ نہیں ہونی چاہیے، بھائیوں بہنو سینیکوں (فوج) کو آزادی ہونی چاہیے کہ نہیں ہونی چاہیے، بھائیو بہنو دیش کا چوکیدار صحیح کام کر رہا ہے کہ نہیں کر رہا ہے اپنے ان خیالات کا اظہار ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں تین لوک سبھا انتخابی نششتوں کے امیدواروں کی اجتماعی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں ایک درجن سے زائد بی جے پی رہنماؤں نے اس انتخابی ریلی میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نے اپنے جانے پہچانے انداز میں ہر لفظ اور ہر القاب کو کئی کئی مرتبہ جان بوجھ کر دہرایا، حالانکہ شور مچانے والے کارکنان کو انہوں نے کئی مرتبہ خاموش ہو جانے کی ہدایت بھی دی۔

پہلی مرتبہ جب وزیر اعظم مودی نے لفظ چوکیدار بول کر جیسے ہی سانس لے کر آگے بولنے کی کوشش کی اسی درمیان پیچھے سے کچھ لوگوں نے ’چوکیدار چور ہے‘ کا نعرہ لگا دیا یہ نظارہ دیکھ کر بی جے پی کارکنان نے ان لوگوں کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہوئے میدان سے جبراً باہر نکال دیا۔

ایک ساتھ تین اضلاع بلند شہر،آگرہ اور علی گڑھ لوک سبھا انتخابات کے لئے بی جے پی امیدواروں کی حمایت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی انتخابی ریلی مکمل طور پر ایک فلاپ شو ثابت ہوئی اس دوران طے شدہ وقت سے قریب ایک گھنٹہ تاخیر سے نمائش گراؤنڈ پہنچے وزیر اعظم نریندر مودی کا اس وقت موڈ خراب ہو گیا جب انہوں نے نمائش میدان کے احاطہ کو چاروں طرف سے خالی دیکھا وزیر اعظم کی آمد سے قبل اس حالت کو دیکھ کر وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے پولس و ضلع انتطامیہ پر اپنی کھیج کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو بد انتطامی کے نام پر جم کر انتخابی منچ سے ہی جم کر پھٹکار لگا دی۔

وزیر اعظم کی آمد کے بعد جب نریندر مودی عوام سے بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگوا کر ان میں جوش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے عین اسی وقت وزیر اعظم کے لئے بنائے گئے انتخابی منچ کے نیچے اچانک ایک کتے کے داخل ہوکر بجلی کے تاروں و ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ الجھنے سے شارٹ سرکٹ ہوگیا اور آگ لگ گئی، تیز دھویں کے اٹھنے سے سیکورٹی انتظامات میں لگے افسران و اعلیٰ انتظامی افسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، آناً فاناً میں کسی طرح آگ اور دھویں پر قابو پا لیا گیا حالانکہ منچ پر موجود وزیر اعظم مودی و وزیر اعلیٰ یوگی پر کسی طرح کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

اپنے پورے خطاب کے دواران وزیر اعظم اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے پاس اپنے 5 سالہ دور حکومت میں کیے گئے کارناموں کو لیکر کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ حالانکہ اس درمیان آخر کی نششت سے لوگوں نے کچھ چبھتے ہوئے سولات ضرور اٹھانے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی کو لیکر مخالفین نے بھی اپنی رائے رکھی ہے۔ کانگریس امیدوار و سابق ممبر پارلیامنٹ وجیندر سنگھ نے مودی کو جھوٹ کی گٹھری قرار دیتے ہوئے کہا کہ زبان پر زہر لگا کر گھومنے والوں کا اب آخر وقت آ چکا ہے اور بی جے پی امیدوار نے پانچ برس تک صرف غندہ گردی کی ہے، صحافیوں، سماجی خدمت گاروں اور مسلم یونیورسٹی سے لیکر ریلوے اسٹیشن تک سبھی کو دھمکانے اور کھلی دلالی کرنے کا کام کیا ہے۔ بی جے پی نے ترقی کے نام پر پورے ملک کو برباد کر دیا ہے عوام اب نعرے اور لچھے دار باتوں پر نہیں رپورٹ کارڈ پر نمبر دیتی ہے، اب بی جے پی کے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے اور عوام سب کچھ سمجھ چکے ہیں، اس بار بی جے امیدواروں کی ضمانت بچنا بھی ممکن نہیں ہے۔

شہر کے مئیر اور سینئر لیڈر محمد فرقان نے مودی کے جملوں کو صرف جملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جملہ پارٹی کا صفایا طے ہے انہوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں جس طرح سے تانا شاہی کی حکومت کو جنم دیا ہے اس سے ملک کی کوئی بھی آئین ساز ایجنسی خوش نہیں ہے اور کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ میڈیا سے لے کر عدالت کے منصف حضرات تک سبھی خوفزدہ ہیں جس کی مثالیں ان پانچ سالہ حکومت میں بھری پڑی ہیں اور عوام سے کسی قدر پوشیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اعلیٰ لیڈران میں شمار کیے جانے والے مرلی منوہر جوشی نے بی جے پی کی پانچ سالہ کار گذاری کو لے کر جو زیرو(صفر) دینے کا بیان دیا ہے وہ بی جے پی کے تمام لیڈران کے لئے نہایت شرم کا مقام ہے، اڈوانی جو کہ اس پارٹی کے بنیادی ممبر ہیں ان کی خود کی بنیادیں اس دور کی بی جے پی میں کتنی محفوظ ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

سینیئر لیڈر سابق ممبر اسمبلی وویک بنسل کا کہنا ہے کہ آج کی تاریخ میں مودی اور یوگی دونوں کو عوام کسی طرح بھی سیریس (سنجیدگی) نہیں لیتے ہیں۔ بی جے پی کے دلت پریم کو لے کر انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنی میٹنگ میں آیئن اور دستور ہند کی کاپیوں کو جلانے کا کام کر چکے ہوں وہ آج بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے نعرے لگا کر ان کے نام پر جس طرح کا ڈھونگ رچ رہے ہیں وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب کے نعرے لگا کر دلتوں کو انصاف نہیں مل جائے گا۔

دلتوں کو انصاف دینے کا کام آزادی سے لے کر آج تک صرف اور صرف کانگریس پارٹی نے کیا ہے اور کانگریس ہی دلتوں، مزدوروں اور اقلیتوں کی حفاظت کر سکتی ہے اور کرتی رہے گی۔