سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں 19 دسمبر کو بایاں محاذ کا مظاہرہ، بہار بند

سی اے اے کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہورہے ہیں لیکن دکھ کی بات ہے کہ حکومت نے اسے کچلنے کیلئے تمام جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے

سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں 19 دسمبر کو بایاں محاذ کا مظاہرہ، بہار بند
سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں 19 دسمبر کو بایاں محاذ کا مظاہرہ، بہار بند
user

یو این آئی

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی ) کی قومی سکریٹری امرجیت کور نے کہا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے شہریت ترمیمی ایکٹ ( سی اے اے ) اور قومی شہریت رجسٹر ( این آرسی ) کی مخالفت میں قومی سطح پر 19 دسمبر کو پرزور مظاہرہ کیاجائے گا اور اسی دن ان مسائل کو لیکر بہار بندکی اپیل کی گئی ہے۔

کور نے یہاں نامہ نگاروں سے خطاب میں کہاکہ حکومت مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ تقسیم کرنے والے عناصر کو فروغ دینے کے خلاف پہلے ہی بایاں محاذ نے 19 دسمبر کو قومی سطح پر احتجاج درج کرنے کیلئے مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی دوران شہریت ترمیمی بل کو پاس کراکر اسے شہریت ترمیمی قانون کی شکل دیئے جانے سے یہ طے ہوگیاہے کہ حکومت آئین کے اصل روح کے خلاف کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

سی پی آئی لیڈر نے کہاکہ شروع میں حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی جارہی تھی کہ سی اے اے اور این آر سی الگ ۔ الگ موضوع ہیں اور دونوں کو ایک ۔ دوسرے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ اب تو مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی اعلان کر دیاہے کہ ملک میں سی اے اے اور این آر سی ایک ساتھ نافذ کیاجائے گا۔ جو کافی خطرناک ہے ۔

مسز کور نے کہاکہ سی اے اے کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہورہے ہیں لیکن دکھ کی بات ہے کہ حکومت نے اسے کچلنے کیلئے تمام جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسیٹی کے طلباءکے ساتھ پولیس نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے ایسا اس سے قبل کبھی دیکھا نہیں گیا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ دکھ کی بات ہے کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے لوگوں نے پولیس کی وردی کا استعمال کر کے مظاہرین کو بری طرح سے پیٹا۔

سی پی آئی لیڈر نے کہاکہ 08 جنوری 2020 کو حکومت کی معاشی پالیسیوں کی مخالفت میں ملک گیر مظاہرے کئے جائیں گے ۔ بڑی تعداد میں نوجوانوں کو حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جبکہ بے روزگار نوجوانوں کو موجودہ حکومت کی مدت کار میں نوکری نہیں مل پارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوامی شعبہ کی کمپنیوں کو حکومت نجی ہاتھوں میں بیچنے کو تیار ہے ۔ جس کا بایاں محاذ پرزور مخالف ہے ۔ حکومت کی جانب سے اعلان کئے گئے کم ازکم امدادی قیمت ( ایم ایس پی ) نہیں ملنے سے کسانوں میں اشتعال ہے اور کئی کسان تنظیمیں بھی بایاں محاذ کی اس ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری ستیہ نارائن سنگھ نے کہاکہ بہار کی اہم اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتادل( آرجے ڈی ) کی جانب سے بھی این آر سی اور سی اے اے کی وجہ سے 21 دسمبر کو بہار بند کی اپیل کی گئی ہے ۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے یہ کوشش کی گئی ہے کہ مشترکہ طور سے ایک ہی دن ان باتوں کو لیکر بند کیاجائے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوپایا ۔ انہوں نے کہاکہ بایاں محاذ 21 دسمبر کو آرجے ڈی کی جانب سے بہار بند کی اخلاقی حمایت کرے گا جبکہ آر جے ڈی نے بھی 19 دسمبر کو بایاں محاذ کی جانب سے بند کی اخلاقی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔

next