وکیل نے 50-50 پیسوں کے سکوں سے ادا کیا سپریم کورٹ کا جرمانہ

سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ سماعت کے لیے معاملوں کو درج کرنے میں ’پک اینڈ چوز‘کی پالیسی نہ اپنائی جائے اور رجسٹری کو غیر جانب دارانہ اور مساوی سلوک کی ہدایت دی جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے کی علامتی طور پر مخالفت کرنے کے لیے ایک وکیل نے منفرد پہل کی اور 100 روپے کے جرمانے کی ادائیگی 50-50 کے 200 سکوں کے ساتھ کی ہے۔
سپریم کورٹ رجسٹری کے ذریعہ لاک ڈاون کے دوران درخواستوں کودرج کرنے میں وکیلوں کا چہرہ دیکھ کر ترجیح دئے جانے کی شکایت کرنے والے وکیل ریپک کنسل نے 100 روپے کے جرمانے کی رقم جمعرات کو رجسٹری کرادی۔لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ رقم کاغذ کے نوٹ دے کر نہیں بلکہ 50-50پیسے کے دوسو سکے جمع کر کے ادا کی۔

چونکہ 50پیسوں کے سکے چلن سے تقریباً باہر ہوچکے ہیں اور بازار میں یہ تسلیم نہیں کیے جارہے ہیں،جبکہ ریزروبینک کے ریکارڈ میں 50 پیسوں کے سکوں کا چلن بند نہیں ہے۔ایسی حالت میں قانونی طور پر 50پیسوں کے سکوں کو تسلیم کرنا رجسٹری کی مجبوری ہے۔

مسٹر کنسل نے یہ سکے کئی وکیل ساتھیوں کی مدد سے یہاں وہاں سے اکٹھا کیے تھے۔یہ وکیلوں کی ایک علامتی مخالفت ہے۔دراصل مسٹر کنسل نے سپریم کورٹ رجسٹری پر الزام عائد کیا تھا کہ رجسٹری بڑے وکیلوں اور بااثر افراد کے معاملوں کو بے خوف درج کرتی ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سماعت کے لیے معاملوں کو درج کرنے میں ’پک اینڈ چوز‘کی پالیسی نہ اپنائی جائے اور رجسٹری کو غیر جانب دارانہ اور مساوی سلوک کی ہدایت دی جائے۔اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے جج ارون مشرا کی بنچ نے مسٹر کنسل پر 100 روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔