پارلیمنٹ: لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی

لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس آخری دن کی کارروائی پوری ہونے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ ایوان میں کل 17 نشستیں ہوئیں اور 112 گھنٹے تک کام کاج ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ایوان میں 22 سرکاری بلوں کو پیش کیا گیا جن میں سے 21 کو منظوری مل گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ اجلاس کے مقابلہ اس اجلاس میں کام بہتر اور تسلی بخش رہا۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آخری دن کانگریس نے مودی حکومت پر رافیل سودے کے معاملہ پر حملہ بولا ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ رافیل سودے کے معاملہ میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجا جائے۔ اس کو لے کر خود یو پی اے چیئر مین سونیا گاندھی نے محاذ سنبھالا ہوا ہے۔

قبل ازیں کانگریس سمیت مختلف حزب اختلاف کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرہ میں سی پی آئی، آر جے دی اور عام آدمی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ مظاہرہ میں سونیا گاندھی، غلام نبی آزاد، آنند شرما، امبیکا سونی سمیت متعدد کانگریس رہنما شامل تھے۔

راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی

رافیل معاملہ کو لے کر ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی کو 2.30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

وزیر اعظم کا تبصرہ پارلیمنٹ کی کارروائی سے ہٹایا گیا

لگاتار بولنے کے لئے مشہور وزیر اعظم مودی کا ایک تبصرہ پارلیمانی کارروائی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے جب کسی وزیر اعظم کے بیان کے حصہ کو کارروائی سے ہٹایا گیا ہو۔

جمعرات کے روز این ڈی اے امیدوار ہریونش سنگھ کی جیت کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا تھا دونوں فریقوں کے امیدواروں کے نام کے ساتھ ہری جڑا ہے۔ ایک طرف ہری تھے لیکن ایک طرف ’بی کے‘ اور ان کے لئے کوئی بکا (فروخت) نہیں۔‘‘

واضح رہے کہ اپوزیشن امیدوار کا نام بی کے ہری پرساد ہے، وزیر اعظم نے بی کے کو بدل کر بِکے کر دیا۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے وزیر اعظم کے تبصرہ پر اعتراض ظاہر کیا تھا اور چیئر مین سے اسے کارروائی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطالبہ پر راجیہ سبھا کی کارروائی سے یہ تبصرہ ہٹا دیا گیا ہے۔

کیرالہ میں بارش، سیلاب اور زمین کھسکنے سے تباہی، 26 افراد جان بحق

کیرالہ میں بھاری بارش کے بعد معومالت زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ گزشتہ دو دونوں میں ریاست کے مختلف حصوں میں 26 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

ریاست بھر میں بھاری بارش کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ کے کام میں این ڈی آر ایف، فوج اور بحریہ کی ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔ لوگوں کو محفوظ ٹھکانوں پر پہنچانے کے لئے ہیلی کاپٹر کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ ریاست کے کئی حصوں میں پل بہہ گئے ہیں۔ ریلوے ٹریک کے نیچے سے مٹی کھسکنے کے سبب ٹرینوں کی نقل حمل پر اثر پڑا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول