دہلی: کورونا سے جان گنوانے والی خاتون کی آخری رسومات حکام کی مداخلت کے بعد ادا

کورونا کی زد میں آ کر جان گنوانے والی خاتون کی لاش ہفتہ کی صبح جب نگم بودھ گھاٹ پر پہنچی تو گھاٹ انتظامیہ نے آخری رسومات ادا کرنے سے منع کر دیا، حکام کی مداخلت کے بعد خاتون کی آخری رسومات ادا ہوئیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی میں کورونا وائرس سے متاثر ہوکرجان گنوانے والی خاتون کی رام منوہر لوہیا اسپتال کی ٹیم کی نگرانی میں تمام احتیاط برتتے ہوئے جمعہ کو نگم بودھ گھاٹ پر آخری رسومات کردی گئیں۔ ملک بھر میں اب تک کورونا وائرس کے 83 سے زیادہ معاملات کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہ اس سے ہونے والی دوسری موت ہے۔

کورونا وائرس کی زد میں آ کر جان گنوانے والی 68 سالہ خاتون کی لاش سنیچر کی صبح جب نگم بودھ گھاٹ پر پہنچی تو گھاٹ انتظامیہ نے آخری رسومات کرنے سے منع کر دیا۔ اس کے بعد حکام کے دخل کے بعد خاتون کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس دوران رام منوہر لوہیا اسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی موجود رہی۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈائرکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے موت ہونے پر احتیاط کے ساتھ لاش کی آخری رسومات ادا کی جا سکتی ہیں۔ اس سے انفیکشن کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق بجلی، سی این جی یا لکڑی سے آخری رسومات اداکی جا سکتی ہیں۔

مرنے والی خاتون اپنے بیٹے کے رابطہ میں آئی تھی جو اٹلی اور سوٹزر لینڈکے دورہ سے 23 فروری کو لوٹا تھا اور کورونا سے متاثر تھا۔خاتون شوگر اور بی پی کی مریض تھیں اور ان کو 7 مارچ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور طبعیت بگڑنے کے بعد ان کو 9 مارچ کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ دہلی میں کورونا ضیابیطس اور ہائپر ٹنشن سے متاثرہ خاتون کی کورونا وائرس سے جمعہ کو موت ہوگئی تھی۔ ہندستان میں کورونا وائرس سے متاثر مریض کی موت کا یہ دوسرامعاملہ ہے۔

پورے ملک میں کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد 83 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق کورونا وائرس کے متاثرین میں 66 ہندوستانی اور 17 بیرونی شہری ہیں۔ دہلی میں ساتوں کیسز ہندوستانیوں کے ہیں جن میں سے ایک کو چھٹی دے دی گئی ہے۔ دہیں ہریانہ میں اب 14 مثبت معاملات منظر عام پر آئے ہیں، یہ تمام مریض بیرونی ہیں۔ کیرالہ میں اب تک کووڈ 19 کے سب سے زیادہ معاملات کا انکشاف ہوا ہے۔ کیرالہ کے بعد مہاراسٹر اس معاملہ میں دوسرے مقام پر ہے جہاں 14 معاملات سامنے آ چکے ہیں۔

کرناٹک میں 6 معاملات کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایک شخص کی موت ہو چک ہے۔ راجستھان میں تین معاملات منظر عام پر آئے ہیں جن میں سے ایک مریض ہندوستانی اور ایک غیر ملکی ہے۔ وہیں ایک کو استپال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ وہیں تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور پنجاب میں ایک ایک معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ میں اب تک تین معاملات کی تصدیق ہو چکی ہے۔