سوپور حملہ میں ’لشکر طیبہ‘ کا ایک گروپ ملوث، حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی: پولیس سربراہ

جموں و کشمیر پولیس سربراہ نے سوپور فائرنگ میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کی میتوں پر پھول مالائیں رکھنے کی تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔

دلباغ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
دلباغ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاؤن سوپور میں فائرنگ کے واقعے میں ملی ٹنٹ نظیم 'لشکر طیبہ' کا ایک گروپ ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ان کے نام فی الحال منکشف نہیں کیے جائیں گے۔

پولیس سربراہ نے ہفتے کو سوپور فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی میتوں پر پھول مالائیں رکھنے کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'ہماری اطلاع کے مطابق لشکر طیبہ کا ایک گروپ اس حملے میں ملوث ہے۔ ہم نے ان کی پہچان کر لی ہے۔ تاہم فی الحال ان کے نام منکشف نہیں کریں گے'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں امید ہے کہ اس جرم کے مرتکبین کو جلد ہی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا'۔


دلباغ سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملی ٹینسی بڑھ نہیں رہی ہے بلکہ کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'ہر جگہ پر سیکورٹی فورسز کا کنٹرول بہت اچھا ہے۔ آپریشنز بھی جاری ہیں۔ کووڈ کے چلتے آپریشنز میں کمی آئی ہے، تاہم ہماری جانب سے امن کو مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم لوگوں کی ذمہ داری ایسی ہے کہ خطروں میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ بیچ بیچ میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے'۔

پولیس سربراہ نے سوپور حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ 'آج کل آپ جانتے ہیں کہ کووڈ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری جگہ جگہ تعینات رہتی ہے۔ سب انسپکٹر مکیش کمار کی قیادت میں سیکورٹی فورسز کی ایک پارٹی سوپور میں تعینات تھی۔ ان پر فائرنگ کی گئی جس کا انہوں نے جواب بھی دیا'۔ انہوں نے کہا کہ 'ڈیوٹی پر تعینات اہلکار اور وہاں موجود کچھ مقامی شہری زخمی ہوئے۔ ہمارے دو جوان کانسٹیبل وسیم اور کانسٹیبل شوکت کی شہادت ہوئی۔ سب انسپکٹر مکیش اور ایس پی او دانش زخمی ہوئے۔ حملے میں تین شہری زخمی ہوئے جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ مکیش کمار اور دانش کی حالت خطرے سے باہر ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔