مسجد کے لئے زمین اصل ایودھیا میں دی جانی چاہیے: اقبال انصاری

اقبال انصاری نے مسجد تعمیر کے لئے ایودھیا سے 18 کلومیٹر دور زمین دیئے جانے کے اعلان کے بعد کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز کیا ہے، مسجد کے لئے زمین اصل ایودھیا میں دی جانی چاہیے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ایودھیا: رام مندر۔بابری مسجد متنازع اراضی ملکیت معاملے میں بابری مسجد کے فریق اقبال انصاری نے حکومت کی جانب سے مسجد کی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ زمین سوہاول تحصیل کے روناہی تھانے کے دھنی پور گاؤں میں دئیے جانے کے اعلان کے بعد کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز کیا ہے، مسجد کے لئے زمین اصل ایودھیا میں دی جانی چاہیے۔

انصاری نے یواین آئی سے بات چیت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے جہاں رام مندر تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنانے کو کہا تھا تو وہیں مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی زمین فراہم کرنے کو کہا تھا۔ لیکن حکومت نے ایودھیا میں مسجد کے لئے زمین نہ دے کر رام جنم بھومی سے تقریباً 18 کلو میٹر دور تحصیل سوہاول کے گرام دھنی پور تھانہ روناہی میں زمین دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی خلاف ورزی ہے۔

انصاری نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ہی ضلع فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا رکھا گیا ہے اس سے قبل فیض آباد ضلع تھا اور ایودھیا اس میں ایک شہر تھا۔ لہذا مسجد کے لئے زمین ضلع فیض آباد کے ضلع ایودھیا بننے سے قبل جو اصل ایودھیا کا رقبہ تھا اسی کے اندر دی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ مندر۔مسجد تنازع کئی سال پرانا ہے۔ اس وقت ایودھیا اور فیض آباد الگ الگ شہر تھے اور ایودھیا ضلع فیض آباد میں آتا تھا۔ نیز فیض آباد کورٹ اور ہائی کورٹ کا جب فیصلہ آیا تھا تو اس وقت ضلع فیض آباد تھا اور جب معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تھا تو اس وقت بھی ضلع کا نام فیض آباد ہی تھا اور ایودھیا فیض آباد کا ایک شہر تھا۔ اور ایک محدود دائرے تک ہی ایودھیا کا رقبہ محدود تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تکنیکی طریقہ اختیار کرتے ہوئے پورے ضلع فیض آباد کو ضلع ایودھیا میں تبدیل کرنے کے بعد اصل ایودھیا سے دور دراز علاقے میں مسجد کے لئے زمین فراہم کرکے ایودھیا میں ہی زمین دینے کا دعوی کر رہی ہے جوکہ کورٹ کی ہدایت کے خلاف ہے۔

انصاری نے کہا کہ فیصلے کے بعد میں نے اپنے گھر کے سامنے کھالی پڑی زمین پر اسکول، اسپتال اور مسجد بنانے کے لئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا یہاں کافی زمین دستیاب ہے اس میں مسجد کے ساتھ استپال اور غریبوں کے لئے اسکول بنائے جاسکتے ہیں۔ لیکن مرکزی وریاستی حکومت نے میرے مطالبے کو نظر انداز کرکے ہیڈکوارٹر سے تقریباً 22 کلومیٹر دور مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین دیئے جانے کا اعلان کیا ہے۔

اقبال انصاری نے رام مندر کی تعمیر کے لئے وزیر اعظم کی جانب سے مجوزہ رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر کےنام سے ٹرسٹ قائم کیے جانے کے اعلان کا استقبال کیا۔

next