چارہ گھوٹالہ معاملہ میں لالو یادو کی ضمانت، رہائی پھر بھی نہیں ہوگی، جانیں کیوں!

چارہ گھوٹالہ سے وابستہ دیوگھر ٹریزری معاملہ میں لالو یادو کو رانچی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے، انہیں 50-50 ہزار کے نجی مچلکہ پر بیل تو ملک گئی لیکن جانیں کہ وہ جیل سے رہا کیوں نہیں ہو پائیں گے!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

چارہ گھوٹالہ سے جڑے ایک معاملہ میں لالو یادو کو راحت ملی ہے، رانچی ہائی کورٹ سے دیو گھر ٹریزری معاملہ میں ان کی عرضی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے لالو پرساد یادو کو 50-50 ہزار کے 2 نجی مچلکہ پر بیل دینے کا حکم سنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عالیہ نے لالو کو پاسپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

لیکن عرضی ضمانت منظور ہونے کے باوجود لالو یادو فی الحال جیل میں ہی رہیں گے کیوں کہ چارہ گھوٹالہ سے جڑے تین معاملات میں وہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، لہذا دیوگھر ٹریزری معاملہ کے علاوہ دو دیگر معاملوں میں جب تک انہیں ضمانت نہیں مل جاتی ان کا جیل سے باہر آ پانا ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ لالو یادو نے گذشتہ مہینے 13 جون کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں ضمانت کے لئے عرضی داخل کی تھی۔ عدالت عالیہ نے 5 جولائی کو اس معاملہ کی سماعت کی اور عرضی گذار کو اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور آج یعنی 12 جولائی کو ان کی عرضی ضمانت کو منظور کر لیا گیا۔

یاد رہے کہ لالو یادو کو چارہ گھوٹالہ سے جڑے دُمکا، دیو گھر اور چائی باسا ٹریزری معاملوں میں سی بی آئی کی عدالت نے سزا سنائی تھی۔ چائی باسا اور دُمکا ٹریزری معاملہ میں لالو کی درخواست ضمانت تاحال منظور نہیں ہوئی ہے۔ 6 جنوری کو رانچی کی ایک خصوصی عدالت نے دیو گھر سے 89 لاکھ 27 ہزار روپے کے غیر قانونی نکاسی (وڈراول) کے معاملہ میں لالو یادو کو ساڑھے تین سال کی قید اور 10 لاکھ کے جرمانہ کی سزار سنائی تھی۔

عدالت نے لالو یادو سے دو سابق معاونین اور پی اے سی (پبلک اکاؤنٹنگ کمیٹی) کے اس وقت کے صدر کو 7 سال کی قید اور 20 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ جبکہ چائی باسا ٹریزری غبن معاملہ میں لالو پرساد یادو اور جگن ناتھ مشرا کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے 5-5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے لالو یادو پر 10 لاکھ اور جگن ناتھ مشرا پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

وہیں 19 مارچ کو دُمکا ٹریزری سے غیر قانونی نکاسی معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔ اس معاملہ میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشرا کو بری کر دیا گیا تھا۔