جیل سے آزادی کے لیے لالو پرساد کو مزید کرنا ہوگا انتظار، سماعت 27 نومبر تک ملتوی

لالو یادو کی جانب سے ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران سی بی آئی نے اس پر جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے سی بی آئی کو 24 نومبر تک کا وقت دے دیا ہے۔

لالو یادو کی فائل تصویر 
لالو یادو کی فائل تصویر
user

یو این آئی

رانچی: چارہ گھوٹالہ معاملے میں سزا یافتہ راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) صدر لالو پرساد یادو کے9 نومبر کو جیل سے باہر آنے کا دعویٰ کرنے والے ان کے بیٹے اور بہار اسمبلی کے انتخاب میں مہاگٹھ بندھن کے وزیراعلیٰ عہدہ کے امیدوار تیجسوی پرساد یادو اور پارٹی کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں ضمانت پر سماعت کی تاریخ آگے بڑھ جانے سے آر جے ڈی سپریمو کے جیل سے باہر آنے کیلئے ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔

جسٹس اپریش کمار سنگھ کی عدالت میں آج دمکا ٹریزری سے غیر قانونی نکاسی معاملے میں لالو پرساد یادو کی جانب سے ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے اس پر جواب داخل کرنے کیلئے مزید وقت کا مطالبہ کیا۔ اس کے لئے عدالت نے سی بی آئی کو 24 نومبر تک کا وقت دے دیا ہے۔ عدالت نے سماعت کی آئندہ کی تاریخ 27 نومبر مقرر کی ہے۔

اس معاملہ میں لالو یادو کے وکیل نے کچھ دن قبل دمکا ٹریزری سے غیر قانونی نکاسی کے معاملے میں ضمانت عرضی داخل کی تھی۔ عرضی میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ مسٹر یادو نے اس معاملے میں آدھی سزا مکمل کرلی ہے اس لئے انہیں ضمانت دے دی جائے۔ حالانکہ ضمانت پر سماعت کے لئے 9 نومبر کی تاریخ مقرر تھی، لیکن آرجے ڈی صدر کے وکیل نے چھ نومبر کو ہی ان سے متعلق معاملے میں ضمانت پر سماعت کرنے کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے قبول کر لیا تھا۔

چارہ گھوٹالے میں سزا یافتہ لالو یادو فی الحال رانچی کے راجندر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنس (ریمس) واقع کیلی بنگلے میں رہ رہے ہیں۔ کورونا کے بڑھتے اثرات کی وجہ سے ریمس میں زیر علاج آرجے ڈی صدر کو کیلی بنگلے میں شفٹ کیا گیا تھا۔

لالو یادو 23 دسمبر 2017 سے چارہ گھوٹالہ معاملے میں جیل میں بند ہیں۔ دمکا، دیو گھر اور چائباسا ٹریژری سے غیر قانونی نکاسی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت انہیں سز ا سنا چکی ہے۔ وہیں دیو گھر اور چائباسا میں معاملے میں انہیں ضمانت مل چکی ہے۔ واضح رہے کہ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے دمکا ٹریژری سے غیر قانونی نکاسی معاملے میں آر جے ڈی سپریمو لالو یادو کو سات سال کی سزا سنائی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next