لکھیم پور تشدد: سپریم کورٹ نے لیا از خود نوٹس، 7 اکتوبر کو ہوگی سماعت

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی بنچ اس معاملے میں سماعت کرے گی، بنچ میں سی جے آئی کے علاوہ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہما کوہلی بھی شامل ہوں گی۔

چیف جسٹس این وی رمنا / آئی اے این ایس
چیف جسٹس این وی رمنا / آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش کے لکھیم پور میں گزشتہ دنوں ہوئے تشدد اور 4 کسانوں سمیت 9 لوگوں کی موت کا معاملہ مزید گرم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن لیڈران لگاتار متاثرہ کنبوں سے ملنے کے لیے پہنچ رہے ہیں، اور دوسری طرف سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے از خود نوٹس لے لیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کل یعنی 7 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ اس معاملے میں سماعت کرے گی جس میں سی جے آئی کے علاوہ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہما کوہلی بھی شامل ہوں گی۔ کیس کا ٹائٹل ’لکھیم پور کھیری میں تشدد کے سبب جان کا نقصان‘ ہے۔ سپریم کورٹ نے میڈیا رپورٹس اور خط کی بنیاد پر یہ نوٹس لیا ہے۔

غور طلب ہے کہ لکھیم پور کھیری میں گزشتہ اتوار کو ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت 9 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں کسان یو پی کے لکھیم پور کھیری ضلع میں مرکزی وزراء کی مخالفت کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ کسانوں نے مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کے خلاف لکھیم پور کھیری کے تکنیا میں اتوار کو ہوئے تشدد کو لے کر کیس درج کرایا ہے۔


کسان لیڈروں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر کے بیٹے کے قافلے میں شامل گاڑیوں نے مظاہرہ کر رہے کسانوں کو کچلا۔ اس کے بعد تشدد بھڑک گیا اور 4 کسانوں کے علاوہ قافلے میں شامل 4 دیگر لوگ بھی مارے گئے۔ بعد ازاں مزید ایک شخص کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔ یو پی پولیس نے لکھیم پور تشدد معاملے میں مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ دفعہ 302، 120 بی اور دیگر دفعات میں یہ کیس درج کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔