لکھیم پور کھیری تشدد: شہید کسانوں کی ’آخری اَرداس‘ کل، سنیوکت کسان مورچہ کا مرکزی وزیر کی برخاستگی تک تحریک چلانے کا اعلان

کسان مورچہ نے کہا ہے کہ کل لکھیم پور کھیری میں شہیدوں کے لیے دعاء کے بعد مورچہ اپنے اعلان کردہ منصوبہ کے ساتھ آگے بڑھے گا، ملک کے کسان جدوجہد کے لیے متحد ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سنیوکت کسان مورچہ نے منگل کو ’یومِ کسان شہید‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے تکونیا میں کل لکھیم پور کھیری تشدد کے شہیدوں کا آخری ارداس ہوگا۔ کسان مورچہ نے پورے ملک میں حامیوں سے اپنی جان گنوانے والے کسانوں کو موم بتی کی روشنی میں خراج عقیدت پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔

کسان مورچہ نے ایک پریس بیان میں کہا کہ ’’تکونیا میں دعائیہ جلسہ میں ہزاروں کسانوں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ کسان مورچہ ملک بھر کی کسان تنظیموں اور دیگر ترقی پذیر گروپوں سے ملک بھر میں موم بتی کی روشنی میں دعائیہ جلسہ منعقد کر کے یومِ کسان شہید کو نشان زد کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘‘

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو ہوئے تشدد میں کسانوں اور ایک صحافی سمیت 9 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ الزام ہے کہ کسانوں کے احتجاج کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا نے اپنی گاڑی سے کئی کسانوں کو کچل دیا تھا، جس کے بعد علاقے میں تشدد پیدا ہو گیا تھا۔ اس واقعہ کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

یہ کہتے ہوئے کہ مودی حکومت کے لیے یہ شرمناک ہے کہ وزیر کو ابھی تک برخاست نہیں کیا گیا، سنیوکت کسان مورچہ نے کہا کہ ’’لکھیم پور کھیری واقعہ کے سبب مجرمانہ معاملوں کی ان کی پچھلی تاریخ لووں کی نظروں میں آ گئی ہے۔ یہ واضح ہے کہ لکھیم پور کھیری قتل عام میں ان کا کردار تھا۔ وہ ان کی ہی گاڑی تھی جو قافلے میں تھی، جنھوں نے بے قصور لوگوں کو مار ڈالا۔‘‘


تنظیم نے الزام عائد کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’بات یہ ہے کہ ٹینی نے دشمنی اور نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی، جو کہ 25 اکتوبر کو سکھوں کے خلاف ان کی تقریر سے واضح ہوتا ہے۔ اس وقت ایک جلسہ عام میں، جہاں وہ فخر سے اپنی مجرمانہ تاریخ کا بھی تذکرہ کر رہے تھے، ان کی تقریر ڈرانے-دھمکانے والی تھی اور اس کی بنیاد پر اب تک سخت کارروائی ہو جانی چاہیے تھی، جس سے لکھیم پور کھیری قتل عام کو روکا جا سکتا تھا۔‘‘

کسان مورچہ نے پہلے ہی پیر کو وزیر کو برخاست کرنے اور گرفتار کرنے کی مدت کے بارے میں ایک الٹی میٹم جاری کیا تھا۔ اس نے اس سے پہلے کہا تھا ’’کل، لکھیم پور کھیری میں قتل عام کے شہیدوں کے لیے منعقد دعائیہ جلسہ میں، مورچہ اپنی پہلے سے اعلان کردہ منصوبے کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ مورچہ دہراتا ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس کے ذریعہ اپنا فرقہ وارانہ کارڈ کھیل کر کسان تحریک کو ختم یا کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ملک کے کسان اپنی جدوجہد میں متحد ہیں۔‘‘


کسان مورچہ نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش پولیس کئی کسانوں اور کسان لیڈروں کو لکھیم پور کھیری جانے سے روکنے کے لیے ان کی آمد و رفت پر روک لگا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ کسانوں کے احتجاج کی کوشش میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے اشارے دینے والی پرورٹ پر مورچہ نے کہا کہ ’’یہ واقعہ افسوسناک ہے کہ انصاف بحال کرنے اور احتجاجی مظاہروں کو تیز کرنے سے روکنے والے کاموں پر یقین دہانی کی جگہ یو پی حکومت احتجاجی مظاہرہ روکنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مورچہ نے اسے بی جے پی کی طرف سے اپنے لیڈروں کو بچانے کی کوشش قرار دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔