لکھیم پور تشدد: آشیش مشرا کو عدالت سے نہیں ملی راحت، 3 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا

یوگی حکومت کے ذریعہ تشکیل خصوصی جانچ ٹیم کی طرف سے پبلک پرازیکیوٹر نے آگے کی جانچ کے لیے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ سے آشیش مشرا کی 14 روزہ پولیس ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں آج ایک مقامی عدالت نے مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے 3 دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا۔ حالانکہ پولیس ریمانڈ کی مدت کے دوران آشیش مشرا کی قانونی ٹیم تک رسائی ہوگی۔

لکھیم پور کھیری واقعہ کی جانچ کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے ذریعہ تشکیل خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) نے آگے کی جانچ کرنے اور کرائم سین کو دوبارہ ’ری کریئٹ‘ کرنے کے لیے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ سے آشیش مشرا کی 14 دن کی پولیس ریمانڈ مانگی تھی۔ پبلک پرازیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ گرفتاری کے 15 دنوں کے اندر حراست کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ’’اس میں پوری طرح سے عدم تعاون دیکھنے کو ملا ہے۔ 12 گھنٹوں کے دوران انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘


اس تعلق سے آشیش مشرا کے وکیل اودھیش سنگھ نے کہا کہ ’’انھوں نے ان سے 12 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ انھیں کتنی پوچھ تاچھ کی ضرورت ہے؟ کیا وہ ملزم پر تھرڈ ڈگری لاگو کرنا چاہتے ہیں؟ آپ انھیں مار پیٹ کر ان کا بیان نہیں لے سکتے۔ انھوں نے ریمانڈ کی ضرورت کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔‘‘

آشیش مشرا کے ریمانڈ معاملے کی سماعت ان کے وکیل کے یو پی پولیس کے ذریعہ ان کے موکل کے خلاف لگائے گئے سبھی الزامات سے انکار کرنے کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس سے قبل جب عدالت میں معاملے کی سماعت شروع ہونی تھی، تب ویڈیو کانفرنسنگ میں کچھ تکنیکی دقتیں بھی سامنے آئیں۔ ویڈیو کنیکٹ کرنے میں تاخیر ہونے پر جج کورٹ روم سے چلے گئے تھے۔


واضح رہے کہ آشیش 3 اکتوبر کو احتجاجی مظاہرہ کر رہے کسانوں پر گاڑی چڑھانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جس میں چار کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد پیدا تشدد میں اس دن دیگر چار لوگوں کی بھی موت ہو گئی تھی۔ آشیش مشرا کو ہفتہ کو 12 گھنٹے پوچھ تاچھ کے بعد دیر رات گرفتار کیا گیا تھا، اور اسی رات انھیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جنھوں نے انھیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔