لکھیم پور کھیری تشدد: ملزم آشیش مشرا کی ضمانت عرضی خارج

آشیش مشرا کی ضمانت عرضی پر اس سے قبل موبائل جی پی ایس، سرویلانس کی رپورٹ اور ایف ایس ایل رپورٹ کی عدم دستیابی کے سبب سماعت نہیں ہو سکی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری واقع تکنیا گاؤں میں کسانوں کو کچلنے کے الزام میں گرفتار مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ضلع جج مکیش مشر نے آشیش اور اس کے دو دیگر ساتھیوں لوکُش اور آشیش پانڈے کی ضمانت عرضی خارج کر دی ہے۔ اپنے فیصلے میں ضلع جج نے کہا کہ انھیں ملزمین کو ضمانت دینے کی کوئی پختہ بنیاد نظر نہیں آ رہی۔

لکھیم پور کھیری واقعہ کے لیے پیر کے روز ہوئی عدالتی سماعت بہت اہم تھی۔ ضلع کورٹ میں ایک بجے بحث پوری ہو گئی تھی۔ تین بار ضلع جج مکیش مشرا کے سامنے سماعت کے لیے پیش ہو چکی ضمانت کی عرضی پر پیر کو بحث پوری ہونے کے پانچ گھنٹے بعد ضلع جج نے ضمانت عرضی خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔


تکنیا واقعہ میں اہم نامزد ملزم آشیش مشر مونو کی ضمانت عرضی پر اس سے پہلے موبائل جی پی ایس، سرویلانس کی رپورٹ اور ایف ایس ایل رپورٹ کی دم دستیابی کے سبب سماعت نہیں ہو سکی تھی۔ لیکن آج آشیش کی ضمانت عرضی پر سماعت پوری ہوئی جس کے بعد ضلع جج نے اپنا اہم فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ 3 اکتوبر کو نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ ایک پروگرام کے لیے لکھیم پور کھیری کے دورے پر تھے۔ تکنیا علاقے میں کسان ان کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے مظاہرہ کر رہے تھے۔ اسی دوران علاقے کے پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ وہاں پہنچے اور کسانوں کے اوپر گاڑی چڑھا دی، جس سے 4 کسانوں کی موت ہو گئی۔ کسانوں کی موت کے بعد معاملہ بڑھ گیا اور تشدد پیدا ہو گیا، جس میں مجموعی طور پر 5 لوگوں کی موت ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔