لکھیم پور کھیری معاملہ: سپریم کورٹ نے حکومت کو دی گواہوں کی سیکورٹی اور تفتیش میں تیزی لانے کی ہدایت

بنچ نے کہا کہ ہم حکومت کو گواہوں کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کرنے کا حکم دیتے ہیں، اس بیان پر حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ سیکورٹی دی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو لکھیم پور کھیری قتل کیس میں اتر پردیش حکومت کے ’ڈھیلے‘ رویے پر ایک بار پھر کئی سوالات اٹھائے اور گواہوں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تفتیش میں تیزی لانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے حکومت کو حکم دیا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت گواہوں کی گواہی کے عمل میں تیزی لائی جائے۔

عدالت عظمیٰ نے پی آئی ایل کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے عدالتی افسر متعلقہ علاقے میں دستیاب نہیں ہے تو ضلع جج کو دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ قریبی علاقے کا کوئی اور مجسٹریٹ اس کا انتظام کر سکتا ہے۔


بنچ نے کہا کہ ہم اترپردیش حکومت کو گواہوں کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کرنے کا حکم دیتے ہیں، عدالت کے اس بیان پر اترپردیش حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ سیکورٹی دی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ میں اسی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ ارون بھاردواج نے اس سانحہ میں مارے گئے شیام سندر کی بیوہ روبی دیوی کی طرف سے پیش ہوئے اور انصاف کی فریاد کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موکلہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔