لداخ تعطل: ہندوستان نے اپریل کی جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا

ہندوستان اور چین کے اعلی فوجی افسران نے مشرقی لداخ سیکٹر کے قریب ایک مہینے سے چلے آ رہے تعطل کو ختم کرنے کی کوششوں کے تحت میراتھن میٹنگ کی جس میں سرحدی تنازعہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان اور چین کے سینئر فوجی افسران نے مشرقی لداخ سیکٹر کے قریب ایک مہینے سے چلے آرہے تعطل کو ختم کرنے کی کوششوں پر آج ایک میراتھن میٹنگ کی جس میں حقیقی کنٹرول لائن پر اپریل کی جوں کی توں حالت برقرار رکھنے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ چین کی چوشول مولڈو سرحدی چوکی پر ہوئی میٹنگ کے بعد ہندوستانی وفد واپس لیہ لوٹ رہا ہے۔ لیہ واقع 14 ویں کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جرل ہریندر سنگھ کی قیادت میں گئے اس وفعد میں فوج کے تقریباً 10 افسر شامل تھے۔ وفد اعلی قیادت کو آج کی بات چیت اور تعطل دور کرنے سے متعلق پیش رفت کے بارے میں واقف کرائے گا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے میٹنگ کے دوران چین سے اس علاقے میں اپریل کی جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بات چیت میں چین کی اور جنوبی شیانگ فوجی ڈویژن کور کے کمانڈڑ میجر جنرل لن نے چینی وفد کی قیادت کی۔

دونوں فریقین کے مابین دوپہر تقریباً ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوئی میٹنگ شام تک چلی اور اس دوران حقیقی کنٹرول لائن پر گزشتہ ایک ماہ کے واقعات پر مرکوز بحث کی گئی۔ اس دوران ہندوستان کی جانب سے حقیقی کنٹرول لائن پر استحکام اور امن بنائے رکھنے سے متعلق مختلف سمجھوتوں کا ذکر کیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ فوج کی اعلی قیادت میٹنگ کی جانکاری حاصل کرنے کے بعد وزارت خارجہ اور اعلی سیاسی قیادت کو اس سے واقف کرائے گی جس کے بعد آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

دونوں ممالک کے سینئر افسران کی میٹنگ سے ایک دن قبل ہی جمعہ کو ہندوستان اور چین کی وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری سطح کی بات چیت میں دونوں جانب سے صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے مثبت اشارے دیئے گئے۔ وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری (مشرقی ایشیا) نوین شریواستو اور چینی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل وو چیانگاؤ کے مابین ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات چیت کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان پرامن، مستحکم اور متوازن تعلقات موجودہ عالمی حالات میں استحکام کے لئے اہم ہیں۔منگل کو فوج کی 3 ڈویژن کے سربراہ جو میجر جنرل رینک کے افسر ہیں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی تھی۔

اس کے بعد جمعہ کو اعلی سطح میٹنگ کا فیصلہ لیا گیا اس کے علاوہ بھی دونوں فریقینی کے درمیان مختلف سطح کے افسران کی تقریباً 8 میٹنگیں ہوچکی ہیں۔حقیقی کنٹرول لائن پر خاص طور پر تین جگہوں پر دونوں فوجوں کے درمیان تعطل ہے اور تقریباً پچھلے ایک مہینے سے دونوں کے وہاں اچھی خاصی تعداد میں فوجیں تعینات کر رکھی ہیں۔فوج کی جانب سے آج صبح جاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے افسران قائم کئئے گئے فوجی اور سفارتی چینلوں س سرحد پر پیدا صورتحال کا حل نکالنے کے لئے بات چیت کررہے ہیں۔