کیا اللہ پر یقین اور ملی اتحاد صرف درس دینے کے لئے ہیں؟ ...خرم رضا

آج کے نازک دور جبکہ ملی تنظیموں اور رہنماؤں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں، ملی رہنما اپنے مقاصد اور اپنی انا کے لئے اختلافات جاری رکھیں گے تو پھر یہ عام لوگوں میں کس طرح منفرد نظر آئیں گے۔

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

سید خرم رضا

جمعیۃ علماء الہند جس نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا اور آزادی کے بعد ملک میں سیکولر و جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے میں اپنی تمام صلاحیتوں کا استعمال کیا اس سال اس کے قیام کو پورے سو سال ہو گئے ہیں۔ مولانا محمود الحسن نے اپنے رفقاء کے ساتھ جس تنظیم کی داغ بیل ڈالی تھی وہ دنیا اور ملک کی طرح کئی نشیب و فراز سے گزری ہے۔ اس نے جہاں ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کیا وہیں مسلمانوں میں دینی بیداری اور اصلاح و معاشرہ کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کیا۔ کئی نشیب و فراز میں تنظیم کی تقسیم بھی ایک اہم باب رہا ہے۔ ویسے تو کئی مرتبہ مزاج اور ذہنی اختلافات کی وجہ سے لوگوں نے تنظیم سے علیحدگی اختیار کی اور دوسری تنظیموں میں شمولیت کے علاوہ نئی تنظیمیں بھی تشکیل دیں اور جمعیتہ علماء الہند نہ تو دینا کی ایسی کوئی پہلی تنظیم ہے جس کے ساتھ ایسا ہوا ہو اور نہ آخری۔

سال 2008 میں جمعیتہ علماء الہند میں اختلافات ہوئے اور اس کے بعد سے ہندوستان میں ایک ہی نام سے دو تنظیمیں کام کرنے لگیں۔ ایک جمعیۃ کی باگ ڈور مولانا ارشد مدنی کے ہاتھ میں ہے تو دوسری جمیعۃ کا کام کاج مولانا محمود مدنی سنبھالتے ہیں جبکہ دونوں رشتہ میں چچا بھتیجے ہیں۔ دونوں اپنی اپنی ٹیم کے ساتھ تنظیم کو فعال انداز میں چلا رہے ہیں اور اب گزشتہ چند سالوں سے صورتحال میں یہ بہتری آئی ہے کہ کبھی کبھار حسب ضرورت دونوں ایک پلیٹ فارم پر بھی ساتھ موجود ہوتے ہیں اور سال 2008 اور اس کے بعد کے چند سال تک جو صورتحال تھی ویسی اب نہیں رہی ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی تنظیموں کو صحیح اور حقیقی ثابت کرنے کے لئے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔ اس بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے کہ دونوں کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے اور دونوں نے ایسا کیوں کیا، کیونکہ اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے بلکہ کچھ لوگوں نے دونوں کے درمیان مصالحت کرانے کی بھی کئی مرتبہ کوشش کی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام میں اللہ پر یقین اور آپسی اتحاد پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ اسلام کیا ویسے بھی بچپن سے سات لکڑیوں والا قصہ سنتے آئے ہیں جس میں والدین اپنے بچوں کو اتحاد کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھانے کے لئے بتاتے ہیں کہ اگر یہ لکڑیاں الگ ہو جائیں گی تو یہ کمزور ہو جائیں گی اور ان کو توڑنا آسان ہو جائے گا لیکن اگر یہ یکجا رہیں گی تو یہ طاقتور رہیں گی اور ان کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔

مولانا ارشد مدنی اور ان کے بھتیجے محمود مدنی کو یہ سب بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جس خانوادے سے ان کا تعلق ہے اور جس ماحول میں اور جیسی تعلیم انہوں نے حاصل کی ہے تو یہ سب باتیں انہیں گھٹی میں ہی مل گئی ہوں گی لیکن اس کے بعد بھی اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے تو عام مسلمانوں کے لئے یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ عام مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اللہ پر یقین اور ملی اتحاد پر درس دینے والے خود اس پر عمل کیوں نہیں کرتے۔ کیا یہ باتیں صرف درس دینے کے لئے ہیں، کیا یہ باتیں صرف دوسروں کو سمجھا کر لوگوں میں اپنی مقبولیت اور عزت بڑھانے کے لئے ہیں۔

دنیا، ملک اور مسلمان بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں اور ایسے نازک دور میں ملی تنظیمیں اور ملی رہنماؤں کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں، اگر ایسے دور میں بھی یہ ملی رہنما اپنے چھوٹے چھوٹے مقاصد اور اپنی انا کے لئے آپس میں اختلافات جاری رکھیں گے تو پھر یہ کیسے عام لوگوں سے منفرد ہوں گے اور پھر قیادت ان لوگوں کو کیوں دینے کی ضرورت ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے میں یہ’ کیوں نہ کہوں‘ کہ ان کے ذاتی اختلافات کا سیدھا مطلب اللہ پر یقین اور اہم سماجی تقاضوں سے انحراف ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کو اس کے بعد یہ اخلاقی حق حاصل ہے کہ وہ ملی اتحاد، اللہ پر یقین اور قناعت پسندی پر عوام کو درس دیں۔ اللہ تعا لیٰ ان کو توفیق عطا کرے تاکہ وہ اپنی حقیقت اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔