مغربی بنگال: ممتا کی اپیل کے باوجود ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری

ممتا بنرجی نے تحریک چلانے والے ڈاکٹروں کے اجتماعی استعفی کے سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ’’انفرادی استعفی الگ بات ہے جبکہ اجتماعی استعفی کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال میں اپنے ساتھیوں پر حملے کی مخالفت میں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کا کوئی حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کی کام پر واپس آنے کی اپیل کے باوجود ڈاکٹروں نے ہڑتال کے چوتھے دن ہفتہ کی رات اپنی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا کہ ممتا بنرجی کی جانب سے اب تک کوئی ایماندار پہل نہیں کی گئی ہے۔ ہڑتال کر رہے ڈاکٹر مسلسل خاطر خواہ تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے ریاست میں جونیئر ڈاکٹروں تحریک کے سلسلے میں گورنر كیسری ناتھ ترپاٹھی سے بھی بات کی۔

ممتا بنرجی نے تحریک چلانے والے ڈاکٹروں کے اجتماعی استعفی کے سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ’’انفرادی استعفی الگ بات ہے جبکہ اجتماعی استعفی کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ این آر ایس میڈیکل کالج و اسپتال جائیں گی تو انہوں نے کہاکہ ’’مجھے کب وہاں جانا ہے یہ میڈیا نہیں طے کرے گی۔ یہ میرا خصوصی حق ہے‘‘۔ اس دوران مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر هرشورددھن سے ڈاکٹروں کی غیر قانونی ملک گیر ہڑتال کو روکنے کے لئے فوری طور مداخلت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

اس سے پہلے ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی حکومت ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں پر ایسما نہیں لگائے گی اور ان کے زیادہ سے زیادہ مطالبات مان لیے گئے ہیں اس لیے انہیں کام پر واپس آنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں ریاست میں ہڑتالی ڈاکٹروں پر ایسما نہیں لگانا چاہتی اور جونیئر ڈاکٹروں سے کام پر واپس آنے کی درخواست ہے کیونکہ ان کے زیادہ تر مطالبات مان لیے گئے ہیں‘‘۔

وزیر اعلی نے کہاکہ ’’ہم نے ان کے سبھی مطالبے مان لئے ہیں اور میں نے اپنے وزراء اور پرنسپل سکریٹری کو ڈاکٹروں سے ملنے کے لئے بھیجا تھا جنهوں نے کل اور آج ڈاکٹروں سے ملنے کے لئے پانچ گھنٹوں تک انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے۔ آپ کو آئینی اداروں کا احترام کرنا ہے‘‘۔

انہوں نے ڈاکٹروں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ’’ڈاکٹروں پر حملہ بدقسمتی کی بات ہے اور ریاستی حکومت تمام ضروری اقدامات کرنے کی پابندہے۔ پرائیویٹ اسپتال میں جو جونیئر ڈاکٹر بھرتی ہے، اس کے علاج پر آنے والا سارا خرچ ریاستی حکومت نے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

Published: 16 Jun 2019, 8:10 AM