کولکاتا پولس کا ’سوشل میڈیا‘ کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

پولس انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی آپ کو حساس اور متنازع مواد (جس کو پڑھنے کی وجہ سے ماحول خراب ہوسکتا ہے) بھیجتا ہے تو پولس کو فوراً مطلع کریں اور اس میسجز کو کسی کو بھی فارورڈ نہ کریں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد کلکتہ پولس نے سوشل میڈیا کی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ کولکاتا پولس کے ذرائع کے مطابق افواہوں اور فیک نیوز پر نگاہ رکھنے کے لئے 24 گھنٹے آئی ٹی سیل کے ذریعہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ پولس آفیسر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان تمام مواد کی جانچ کی جا رہی ہے جس سے لااینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوتا ہو، اس کے علاوہ تمام پولس اسٹیشن کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔رات میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں پولس کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پولس انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر متنازع میسجز کو فارورڈ کرنے سے گریز کریں، آئی پی ایس آفیسر نے کہا کہ ہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی آپ کو حساس اور متنازع مواد (جس کو پڑھنے کی وجہ سے ماحول خراب ہوسکتا ہے) بھیجتا ہیں تو پولس کو فوراً مطلع کریں اور اس میسجز کو کسی کو بھی فارورڈ نہ کریں۔ اور اگرکسی میسجز سے کوئی پریشانی کھڑی ہوتی ہے تو پولس انتظامیہ اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔

دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات میں 38 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ کلکتہ پولس کمشنر نے اس سے متعلق خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ٹوئیٹٹر اکائونٹ @KolkataPolice @KPTrafficDept @KPDetectiveDept is here to serve. #Dial100 in distress,کو شیئر کرکے اپیل کی ہے اس پر متنازع مواد کی خبر دیں۔

اس کے علاوہ کولکاتا کے پارکس سرکس میدان جہاں بڑی تعداد میں خواتین شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں میں سیکورٹی انتظامات کو بڑھا دیا گیا ہے۔