ہماچل کے ضمنی انتخابات میں ’کسان سبھا‘ بی جے کی مخالفت کرے گی: ڈاکٹر تنور

مرکزی اور ریاستی حکومت کی بے رخی اور کسان مخالف پالیسیوں کے سبب ہماچل کسان سبھا نے ضمنی انتخابات میں حکومت کے خلاف جانے کا ذہن بنا لیا ہے

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

شملہ: مرکزی اور ریاستی حکومت کی بے رخی اور کسان مخالف پالیسیوں کے سبب ہماچل کسان سبھا نے ضمنی انتخابات میں حکومت کے خلاف جانے کا ذہن بنا لیا ہے۔

ہماچل کسان سبھا کے صدر کلدیپ تنور نے آج یہاں کہا کہ مرکز اور ریاست کی ڈبل انجن حکومت نے عام آدمی اور کسانوں پرڈبل مارکی ہے۔ ایک طرف اشیائے خوردونوش کی مہنگائی اپنے عروج پر ہے لیکن دوسری طرف جوکسان فصل اگارہا ہے اس کو اپنی پیداوارکی مناسب قیمت تک نہیں مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان سبھا کہیں سیب، ٹماٹر توکہیں دھان اورمکہ پر پڑی مار کاحساب مانگے گی۔ ڈاکٹر تنور نے کہا کہ مرکزی حکومت جہاں زرعی قوانین کے ذریعے کسانوں کی زمین کوکارپوریٹ گھرانوں اور سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کی سازش کررہی ہے۔

وہیں ریاستی حکومت کی بے رخی اورلاپرواہی سے ریاست کے کسان ہر طرف سے متاثر ہورہے ہیں۔ کسان رہنما نے کہا کہ جہاں ریاست میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں وہاں ہر جگہ کے کسانوں، باغبانوں اور سبزیوں کے کاشتکاروں کی فصلیں بری طرح تباہ ہوئی ہیں۔


ان کے مطابق منڈی پارلیمانی حلقہ میں سیب، سبزیاں، مکئی جیسی تمام پیدوار متاثر تو ہوئیں ہی ساتھ ہی فور لین سے متاثرہ لوگ بھی طویل عرصے سے اپنی مانگ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن انہیں اپنی زمین کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا ہے۔ اس کے برعکس بلہہ علاقے کی زر خیز زمین کو ریاستی اور مرکزی حکومت ہوائی اڈے کے لیے حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔

ایسے میں بی جے پی کا کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا وعدہ نہ صرف جملہ ثابت ہو رہا ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی نیچے کی طرف جارہی ہے۔ کسان تحریک میں جدوجہد کرنے والے کسانوں سے بات کرنے کے بجائے انہیں گاڑی سے کچلا جا رہا ہے۔ اس کے پیش نظر کسان سبھا تینوں اسمبلیوں سمیت منڈی پارلیمانی نشست پر بی جے پی کی مخالفت کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔