راجیہ سبھا میں تقریر کے حصے حذف کیے جانے پر ملکارجن کھڑگے برہم، بحال کرنے کا مطالبہ
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کھڑگے نے اپنی تقریر کے حصے حذف کیے جانے پر سخت اعتراض کیا اور انہیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ یہ فیصلہ چیئرمین کا صوابدیدی اختیار ہے

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اپنی تقریر کے کچھ حصے سرکاری ریکارڈ سے حذف کیے جانے پر شدید ناراضی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب پر بحث کے دوران انہوں نے جو تقریر کی تھی، اس کا ایک بڑا حصہ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے تمام باتیں قواعد کے دائرے میں رہ کر کی تھیں۔
ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اعتراض اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حذف شدہ حصوں کو دوبارہ ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حذف کیے گئے اقتباسات میں زیادہ تر وہ نکات شامل تھے جن میں انہوں نے موجودہ حکومت کے دور میں پارلیمانی کام کاج کی صورتحال پر مبنی تبصرے کیے تھے اور چند پالیسیوں پر وزیر اعظم پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پالیسیوں پر سوال اٹھائیں جنہیں وہ ملک اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پارلیمانی زندگی پچاس برس سے زائد پر محیط ہے اور وہ ایوان کے ضوابط اور روایات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے مطابق ان کی تقریر میں کوئی بھی ایسا لفظ شامل نہیں تھا جو غیر پارلیمانی یا توہین آمیز قرار دیا جا سکے۔ انہوں نے ضابطہ 261 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال صرف مخصوص حالات میں کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی تقریر اس زمرے میں نہیں آتی۔ مزید برآں، آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت اراکین کو ایوان کے اندر اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، اس لیے تقریر کے بڑے حصے کو حذف کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے گزارش کی کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ایوان کے اندر انصاف نہ ملا تو وہ عوام کے سامنے اپنی مکمل تقریر پیش کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اس پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ چیئر کو ہدایت دینا مناسب نہیں اور یہ جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بھی قائد حزب اختلاف کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ 261 کے تحت اگر چیئرمین کو کوئی لفظ ہتک آمیز، غیر شائستہ یا ایوان کی وقار کے خلاف محسوس ہو تو وہ اسے حذف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ چیئر کا ہوتا ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے تاکہ ایوان کی وقار برقرار رہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔