کھڑگے نے پی ایم مودی کو ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ ٹھہرایا، لوک سبھا اور سبھی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مطالبہ
صحافیوں سے بات چیت کے دوران ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن ایس آئی آر اور انتخابی عمل کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف پورے ملک میں اپنی تحریک جاری رکھے گی۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کے روز لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر ایک نئی ہلچل شروع کر دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ہوئے تمام انتخابات غیر قانونی ہیں اور اس بنیاد پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی غیر قانونی ہیں۔ کھڑگے نے واضح لفظوں میں کہا کہ تمام ایوانوں کو تحلیل کر کے نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں اور ان انتخابات میں ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر کا استعمال ہو۔ یہ مطالبہ کھڑگے نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے، جس کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے۔
صحافیوں سے بات چیت میں کھڑگے نے کہا کہ ’’آج پورا ملک غیر قانونی انتخابات کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ مودی ایک غیر قانونی وزیر اعظم ہیں، شاہ ایک غیر قانونی وزیر داخلہ ہیں اور جہاں بھی وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں، وہ سب غیر قانونی ہیں۔ ان سب کو تحلیل کر دیا جانا چاہیے، نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘ بات چیت کے دوران کھڑگے نے ای وی ایم کے مبینہ غلط استعمال کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ’ان کے اپنے لوگ‘ بھی بات کر رہے ہیں۔
یہ پریس کانفرنس کھڑگے نے کرناٹک میں کیا جہاں انھوں نے ملک کی کئی ریاستوں میں جاری ایس آئی آر کے عمل پر سنگین سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں کئی گڑبڑیاں ہیں اور حکومت کی جانب سے کئی غلطیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر جمہوری عمل پر پڑ رہا ہے اور جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن ایس آئی آر اور انتخابی عمل کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف پورے ملک میں اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
اس گفتگو میں کانگریس صدر نے ایس آئی آر سے متعلق انڈیا اتحاد کی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر کو ہوئی میٹنگ میں 20 سیاسی پارٹیوں کے اراکین اور ان کے قانونی سیل کے نمائندے شامل ہوئے تھے۔ کھڑگے کے مطابق میٹنگ میں تمام پارٹیاں اس بات پر متفق تھیں کہ ایس آئی آر ملک کے لیے نقصاندہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر غریبوں، کم پڑھے لکھے لوگوں، مزدوروں اور خاص طور پر اقلیتوں پر پڑ رہا ہے۔ کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ایک بوتھ کی ووٹر لسٹ سے 500 ووٹ ہٹا دیے جائیں تو اسے غیر جانبدارانہ انتخاب کیسے کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف ووٹرز کے نام ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف اب نام شامل کرنے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔
کھڑگے کا کہنا ہے کہ ملک کے پرانے لیڈران نے جمہوریت میں اس طرح کی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، لال بہادر شاستری، نرسمہا راؤ اور راجیو گاندھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کسی لیڈر نے اس طرح کا کوئی کام انجام نہیں دیا۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ جس طرح ایس آئی آر کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے نوجوانوں، غریبوں، دلتوں اور محروم طبقات کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے غریب اور امیر کے درمیان آنے والی مشکلات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امیر شخص کسی طرح اپنا کام کرا سکتا ہے، لیکن اگر کسی غریب کے ووٹر لسٹ میں کوئی گڑبڑی ہو جائے تو اسے اپنا کام چھوڑ کر اسے درست کرانے یا نام کی تجدید کرانے کے لیے بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے خاص طور پر قانون کی دفعہ 16 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو عہدے پر رہتے ہوئے لیے گئے فیصلوں کے لیے قانونی کارروائی سے چھوٹ دی گئی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ پہلے الیکشن کمشنرز کی تقرری والی کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا، اپوزیشن کے لیڈر اور وزیر اعظم شامل ہوتے تھے، لیکن 2023 کے قانون میں چیف جسٹس کو کمیٹی سے ہٹا کر ان کی جگہ ایک مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ پرانے قانون کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی ایماندار چیف جسٹس حکومت سے متفق نہیں ہوا تو حکومت کے لیے اپنی پسند کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنا مشکل ہو سکتا تھا۔
نئے قانون پر حملہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کوئی غلطی کرتے ہیں تو ان کے خلاف جانچ کا راستہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے اسے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔ کھڑگے نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے 2 اراکین کے خطوط کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ان دونوں اراکین نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھے، لیکن ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ کھڑگے نے کہا کہ وہ اراکین باہر کھل کر نہیں بول سکتے، لیکن انہوں نے اپنی بات خطوط کے ذریعے رکھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر اسی طرح کی صورت حال برقرار رہی تو انتخابات منمانے طریقے سے کرائے جا سکتے ہیں۔
کھڑگے نے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک کو طے کرنا ہوگا کہ جمہوریت کو بچانا ہے یا اسے ختم ہونے دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلائی گئی تھی اور تمام پارٹیوں سے تحریک شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں تحریک شروع ہو چکی ہے اور 6 اکتوبر کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گے۔ کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے مسلسل تحریک چلاتی رہے گی۔ 6 اکتوبر کو بڑا مظاہرہ ہوگا اور اس کے بعد ہر 4-3 دن میں احتجاج کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں بھی اس معاملے کو لے کر مظاہرے ہو رہے ہیں۔
کھڑگے نے ایک بار پھر انتخابات بیلٹ پیپر سے کرانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں بیدار کرنا ہے۔ اگر لوگوں کو بیدار کرنے کے بعد بھی وہ مسلسل مودی مودی کہتے رہیں گے تو یہ ان کی اپنی پسند ہے، لیکن انہوں نے اسے آمریت چاہنے سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا۔ اتر پردیش کی تمام اسمبلی نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو لے کر جب ان سے اپوزیشن کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھا گیا تو کھڑگے نے کہا کہ وہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا انتخابات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم وہ ابھی زندہ ہیں اور ان سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے، حالانکہ انہوں نے آگے یہ بھی کہا کہ وہ صورت حال بھی ختم ہو سکتی ہے۔
قانونی راستے کو لے کر پوچھے گئے سوال پر کھڑگے نے ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر وہ کیا کر سکتے ہیں، جبکہ قانون حکومت کے ساتھ ہے اور عدلیہ بھی حکومت کے اثر میں ہے۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن حکومت کے ہاتھوں میں ہیں اور مشینیں بھی ان کی ہدایت پر چل رہی ہیں۔ انہوں نے ووٹ تبدیل کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ اسی وجہ سے مودی اور شاہ کو سب سے پہلے جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار سے باہر ہونا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
