کرناٹک میں خشک سالی: کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کو لکھا خط، 3705 کروڑ روپے کی مرکزی امداد فوری جاری کرنے کا مطالبہ
ملکارجن کھڑگے نے خط میں لکھا کہ ’’کرناٹک اس وقت شدید خشک سالی کی زد میں ہے اور یہ گزشتہ 150 سالوں میں ریاست میں آنے والی سب سے سنگین خشک سالی ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کرناٹک میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ ریاست کے لیے 3705.30 کروڑ روپے کی مرکزی امداد فوری جاری کی جائے۔ کھڑگے نے وزیر اعظم کو یکم اکتوبر کو لکھے گئے خط کی کاپی ہفتہ (3 اکتوبر) کو ’ایکس‘ پر شیئر کی اور کہا کہ وہ وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی اس طرح کا خط لکھ چکے ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے خط میں لکھا کہ کرناٹک اس وقت شدید خشک سالی کی زد میں ہے اور یہ گزشتہ 150 سالوں میں ریاست میں آنے والی سب سے سنگین خشک سالی ثابت ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ محض 3 سال کے اندر ریاست کو دوسری بار ایسی سنگین خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق رواں سال ستمبر تک کرناٹک میں معمول سے 58 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور تمام 31 اضلاع بارش کی کمی سے متاثر ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ریاست کے 240 تعلقوں میں سے 217 میں کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ 101 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا جا چکا ہے اور 116 دیگر تعلقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاست میں جنوب مغربی مانسون کے دوران دوسری سب سے کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
کھڑگے کے مطابق 19.52 لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ رقبے میں فصلوں کے نقصان کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کی تخمینی مالیت 18748.23 کروڑ روپے ہے۔ ریاستی حکومت نے خشک سالی سے ہونے والے مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 40000 کروڑ روپے لگایا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ 31 لاکھ سے زیادہ کسان خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ 709 گاؤں اور 114 شہری وارڈز میں ٹینکروں کے ذریعے پینے کے پانی کی سپلائی کی جا رہی ہے، جبکہ 18 تعلقوں میں چارے کا ذخیرہ 20 ہفتوں سے بھی کم عرصے کے لیے باقی ہے۔
کانگریس صدر نے وزیر اعظم سے 6 اہم مطالبات پر فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔ ان میں کلیان کرناٹک خطے میں خشک سالی سے ہوئے نقصان کا زمینی جائزہ لینے کے لیے مرکزی ٹیم بھیجنا اور ریاست کی جانب سے مانگی گئی 3705.30 کروڑ روپے کی مکمل امداد جاری کرنا شامل ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور معمولی کسانوں کے لیے لاگت پر رعایت کا حساب کرناٹک کے تازہ ترین ’بھومی‘ اراضی ریکارڈ کی بنیاد پر کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16-2015 کی زرعی مردم شماری کے پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر امداد دیے جانے سے اہل کسان فائدے سے محروم ہو سکتے ہیں۔
کھڑگے نے خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لیے جانے والے 11 اضافی تعلقوں اور مستقبل میں اہل قرار دیے جانے والے دیگر تعلقوں کو بھی اسی مرکزی امداد کے دائرے میں شامل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کاویری اور ہائیڈرو پاور والے علاقوں میں آبی ذخائر کی کم سطح آب کا حوالہ دیتے ہوئے پینے کے پانی کی فراہمی اور متبادل بجلی کی لاگت کے لیے اضافی امداد دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کرناٹک کو امداد سیاسی نظریات سے متاثر ہوئے بغیر، نقصان اور ضرورت کی بنیاد پر فوری دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خشک سالی سے راحت ایک انسانی ضرورت ہے اور مرکز و ریاست کے درمیان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متاثرہ لوگوں کو بروقت مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
