عدالت سے خان سر کو ملی بڑی راحت، آئندہ تاریخ تک عبوری تحفظ میں توسیع، مخالف فریق نے لگائے سنگین الزام

عدالت نے فیضل خان اور معاملے سے وابستہ دیگر فریقین کو ’زبردستی کارروائی نہیں‘ کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے پولیس کو کسی بھی سخت کارروائی سے فی الحال گریز کرنے کے لیے کہا ہے۔

خان سر / تصویر سوشل میڈیا
i

پٹنہ کے مشہور کوچنگ معاملے میں ٹیچر فیضل خان عرف خان سر کو عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہفتہ کو پٹنہ سول کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے عبوری تحفظ میں اگلی سماعت تک توسیع کر دی۔ اس کے ساتھ ہی ان کی گرفتاری پر لگائی گئی روک بھی برقرار رہے گی۔

سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے معاملے کی کیس ڈائری عدالت میں پیش کی گئی۔ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے فریقین کے دلائل سنے اور فی الحال موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے فیضل خان اور معاملے سے وابستہ دیگر فریقین کو ’زبردستی کارروائی نہیں‘ کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے پولیس کو کسی بھی سخت کارروائی سے فی الحال گریز کرنے کے لیے کہا ہے۔


معاملے میں خان سر کے سیکورٹی اہلکاروں کی درخواست ضمانت پر بھی سماعت ہوئی۔ اس دوران دونوں فریق کے وکلاء کے درمیان زبردست بحث دیکھنے کو ملی۔ حالانکہ عدالت نے اس سلسلے میں اپنا حتمی فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

دوسری جانب مخالف فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ نرنجن کمار نے پیشگی ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں کئی دلائل پیش کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے تنازعہ کی سازش کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے اندر رچی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ شکایات کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے معاملے کی غیرجانبدارانہ  اور مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ فی الحال عدالت کے حکم کے بعد خان سر کو آئندہ سماعت تک راحت مل گئی ہے اور معاملے پر سبھی کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔