شہریت قانون کے خلاف کیرالہ حکومت سپریم کورٹ پہنچی، بتایا آئین مخالف

کیرالہ حکومت نے عدالت عظمیٰ میں داخل کی گئی عرضی میں کہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون آئینی اصولوں کے خلاف ہے اس لیے اس کے نفاذ پر روک لگائی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اس درمیان کیرالہ وہ پہلی ریاست بن گئی ہے جو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ کیرالہ کی پینارائی وجین حکومت نے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون ہندوستانی آئین کی شق 14، 21 اور 25 کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کے حقیقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

کیرالہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت شہریت (ترمیمی) قانون (سی اےاے) کی آئینی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں منگل کے روز چیلنج کیا۔ کسی ریاستی حکومت کی جانب سے مرکز کے اس قانون کے خلاف دائر یہ پہلی عرضی ہے، اور چونکہ کئی ریاستوں نے اس قانون کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے اس لیے امکان ہے کہ دیگر کچھ ریاستیں بھی جلد ہی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہیں۔

بہر حال، کیرالہ حکومت کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی میں پاسپورٹ ( ہندوستان میں داخلہ) ترمیمی قوانین 2015 اور غیر ملکی (ترمیمی) آرڈر 2015 کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ اس حکم نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ان غیر مسلم تارکین وطن کے قیام کو منظوری دے دی ہے جو 31 دسمبر، 2014 سے پہلے اس شرط پر ہندوستان میں داخل ہوئے تھے کہ وہ اپنے ملک میں مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے وہاں سے بھاگ آئے تھے۔

اس درخواست میں قانون اور انصاف کی وزارت کے سکریٹری اور حکومت ہند کو مدعا علیہ بنایا گیا ہے۔دراصل آئین کی آرٹیکل 131 حکومت ہند اور کسی بھی ریاست کے درمیان کسی بھی تنازع میں سپریم کورٹ کو بنیادی دائرہ اختیار دیتا ہے۔ بہر حال، سی اےاے کو چیلنج دینے والی کم از کم 60 عرضیاں عدالت میں زیر التواہیں، لیکن کیرالہ حکومت کے ذریعہ عدالت عظمیٰ میں داخل عرضی کسی بھی ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کی گئی پہلی عرضی ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)