کیرالہ: بینک نے کی ’ٹائپو‘ کی غلطی، 20 ہزار روپے کی جگہ ٹرانسفر ہو گئے 20 ہزار ڈالر، یونیورسٹی کو ہوا 16.5 لاکھ روپے کا نقصان
ٹرانسفر کے دوران بینک کلرک نے غلطی سے ہندوستانی روپے (₹) کے بجائے امریکی ڈالر ($) کے نشان کا انتخاب کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کھاتے سے 20000 روپے کے بجائے 20000 ڈالر ٹرانسفر ہو گئے۔

بینکنگ کام کاج میں میں ایک چھوٹی سی انسانی بھول کیسے بھاری مالی نقصان کی وجہ بن سکتی ہے، اس کا ایک حیران کن معاملہ کیرالہ سے سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے ایک ملازم کی جانب سے ٹرانزیکشن کے دوران غلط ’کرنسی نشان‘ منتخب کرنے کی وجہ سے کیرالہ یونیورسٹی کو 16.5 لاکھ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ واقعہ ترووننت پورم کے ٹیکنو پارک واقع ایس بی آئی تیجسوینی برانچ کا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیرالہ یونیورسٹی کے ’سنٹر فار لیٹن امریکن اسٹڈیز‘ کو برازیل میں موجود ایک صحافی اور گیسٹ لیکچرر ملان سِم مارٹینک کو بطور معاوضہ 20000 روپے ادا کرنے تھے۔ انہوں نے 2023 میں یونیورسٹی کے لیے 4 آن لائن لیکچر دیے تھے۔ ٹرانسفر کے دوران بینک کلرک نے غلطی سے ہندوستانی روپے (₹) کے بجائے امریکی ڈالر ($) کے نشان کا انتخاب کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کھاتے سے 20000 روپے کے بجائے 20000 ڈالر ٹرانسفر ہو گئے۔ زر مبادلہ کی شرح کے حساب سے ’ٹائپو‘ کی اس غلطی کی وجہ سے یونیورسٹی کے فنڈ سے تقریباً 16.5 لاکھ روپے اضافی ٹرانسفر ہو گئے۔
واضح رہے کہ یہ ٹرانزیکشن 15 جون 2023 کو ہوا تھا، لیکن اس بڑی غلطی کا انکشاف 2024 میں ہوا جب سنٹر نے یونیورسٹی کو نقصان کی باضابطہ رپورٹ پیش کی۔ اضافی رقم لیکچرر کی اہلیہ کیتھلین مارٹینک کے کھاتے میں جمع ہو گئی تھی۔ یہ فنڈ اصل میں ریاستی حکومت کی جانب سے اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام کے لیے منظور کیے گئے 20 لاکھ روپے کا حصہ تھے۔
یونیورسٹی کے لیے اب یہ پیسہ واپس لانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ سنٹر کے سربراہ گریش کمار کے مطابق لیکچرر نے شروعات میں اضافی رقم لوٹانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ریفنڈ کبھی موصول ہی نہیں ہوئی۔ بدقسمتی سے یونیورسٹی کے رابطہ کرنے کے کچھ ماہ بعد لیکچرر کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے رقم کی واپسی کی امید بالکل ختم ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق غلط ٹرانزیکشن کے بعد یہ پیسہ ایک کنسلٹنگ گروپ کے کھاتے میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اس معاملے میں اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے اور وصول کنندہ فریق کو رقم لوٹانے کے لیے راضی کرنے میں یونیورسٹی سے تعاون طلب کیا ہے۔ یونیورسٹی نے بینکنگ اومبڈسمین (محتسب) سے بھی رابطہ کیا ہے، لیکن معاملہ اب تک حل نہیں ہوا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کے دور میں ایک چھوٹی سی ’ٹائپنگ کی غلطی‘ کس قدر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔