جب شاہ رخ کے انداز میں بولے کیجریوال...

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال

دہلی حکومت کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیر اعلیٰ ایک اشتہار ریلیز کرنا چاہ رہے تھے لیکن کسی بھی محکمہ سے کلیرنس حاصل نہیں کر سکے۔

کیجریوال نے شاہ رخ خان کے اسٹائل میں جب کہا کہ ’’جب آپ سچ کے راستے پر چلتے ہیں تو سبھی نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی قوتیں آپ کی مدد کرتی ہیں‘‘ تو سبھی افسر اپنا سر کھجلاتے ہوئے ایک دوسرے کا منھ تاکنے لگے۔ کیجریوال نے بھی جب افسروں کو تذبذب کی حالت میں دیکھا تو خود بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ نتیجہ، دہلی حکومت کے تین سال کی تعریف کرنے والا اشتہار پھنس گیا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ دہلی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر وزیر اعلیٰ کیجریوال پر مبنی ایک اشتہار بنایا گیا جس میں حکومت کی حصولیابیوں کا ڈھول پیٹا گیا ہے۔ یہ اشتہار 14 فروری کو حکومت کے تین سال مکمل ہونے سے ایک دن قبل یعنی 13 فروری کو ٹی وی چینلوں میں دکھائے جانے کے لیے جاری ہونا تھا۔ اس اشتہار میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بتا رہے ہیں کہ کس طرح انھوں نے شاندار کام کیا۔

ضابطے کے مطابق کسی بھی سرکاری اشتہار کو ٹی وی پر دکھائے جانے کے لیے جاری کرنے سے پہلے سبھی متعلقہ محکموں کا کلیرینس یعنی منظوری چاہیے ہوتی ہے تاکہ اعداد و شمار وغیرہ میں کوئی غلطی نہ ہو۔ معاملہ یہیں پھنس گیا۔ اس اشتہار کو سبھی محکموں نے کلیرینس دینے سے انکار کر دیا۔

سب سے بڑا مسئلہ اس اشتہار کی ایک لائن پر کھڑا ہوا۔ اس لائن میں وزیر اعلیٰ کیجریوال کہہ رہے ہیں کہ ’’جب آپ سچائی اور ایمانداری کے راستے پر چلتے ہیں تو کائنات کی سبھی نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی قوتیں آپ کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ اس لائن کو منظوری دینے سے ہر محکمہ نے انکار کر دیا۔ سبھی افسروں کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں پتہ کہ اس لائن کو کون سا محکمہ منظوری دے گا۔

ذرائع کے مطابق اشتہار جاری ہونے کی تاریخ سر پر آنے کے بعد بھی جب اشتہار جاری نہیں ہوا تو وزیر اعلیٰ نے بروز پیر اپنے افسروں کی میٹنگ طلب کی۔ میٹنگ میں افسروں نے سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کا حوالہ دیا۔ افسروں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کسی بھی اشتہار میں موجود سبھی دلائل کی متعلقہ محکمہ تصدیق کرتا ہے لیکن ’نظر نہ آنے والی قوتوں‘ کی تصدیق کرنے کا حق کسی بھی محکمہ کے پاس نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات سن کر وزیر اعلیٰ نے میٹنگ میں اپنا سر پکڑ لیا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ ضابطہ دلیل کی جانچ کرنے کے لیے بنائے ہیں، کسی کام کو پھنسانے کے لیے نہیں۔ لیکن کوئی بھی افسر ٹس سے مس نہیں ہوا۔

اس اشتہار میں اس کے علاوہ بھی کئی دشواریاں ہیں جن کی وجہ سے محکموں کی منظوری کے بعد بھی شاید ہی یہ اشتہار جاری ہو پاتا۔ لیکن اس سے پہلے آپ کے سامنے وہ پورا پیغام رکھ دیں جو اس اشتہار کے ذریعہ وزیر اعلیٰ آپ تک پہنچانا چاہتے تھے۔ اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’گزشتہ تین سالوں میں دہلی میں بدعنوانی میں زبردست کمی آئی ہے۔ اب ایک ایک پیسہ عوام کی ترقی پر خرچ ہو رہا ہے۔ رکاوٹیں بہت آئیں لیکن آپ کے حق کے لیے ہم ہر مشکلات سے لڑے۔ پروردگار نے ہر قدم پر ساتھد یا۔ جب آپ سچائی اور ایمانداری کے راستے پر چلتے ہیں تو کائنات کی ساری نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی قوتیں آپ کی مدد کرتی ہیں۔‘‘

اس اشتہار سے متعلق جو دوسری سب سے بڑی پریشانی ہو سکتی تھی، وہ یہ کہ کس شرح پر یہ اشتہار ٹی وی چینلوں کو دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں بھی سب کچھ واضح نہیں ہے۔ خصوصی ذرائع کا کہنا ہے کہ عام طور پر حکومتیں اپنے کام کی حصولیابیاں شمار کرانے والے اشتہارات کسی ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے تیار کرواتی ہیں جو اس کے نشریہ کی ذمہ داری بھی لیتی ہیں۔ لیکن اس اشتہار کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ اشتہار کس ایجنسی نے بنایا ہے، یہ پتہ نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے والنٹیر یا سماجی کارکنان نے اسے بنایا ہو۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومتوں کے اشتہارات ٹی وی چینلوں پر ڈی اے وی پی یعنی ’ڈائریکٹوریٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسٹی‘ کے ذریعہ منظور شدہ شرحوں کی ادائیگی پر جاری کیے جاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ڈی اے وی پی نے کافی وقت سے ٹی وی چینلوں پر اشتہارات کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور موجودہ شرح ٹی وی چینلوں کو منظور نہیں ہے، اس لیے وہ اس اشتہار کو نشر کرنا یوں بھی منظور نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ کمرشیل شرح پر اس اشتہار کو چلایا جاتا تو یہ قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی ہوتی کیونکہ کوئی بھی حکومت کمرشیل شرح پر اپنا اشتہار نہیں چلا سکتی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو لیکن سچائی تو یہ ہے کہ یہ اشتہار اب ’ڈبہ بند‘ ہو چکا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول