واہ کیجریوال حکومت! اماموں کو تنخواہ نہیں، بیواؤں کو وظیفہ نہیں

کورونا وبا کے اس دور میں کئی سو بیواؤں کو ملنے والا وظیفہ تقریباً 8 ماہ سے بند ہے اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والا عملہ بھی 8 ماہ سے زیادہ عرصہ سے تنخواہوں سے محروم ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا وبا کے اس دور میں لوگوں کو بحران کا سامنا ہے اور اس وقت انہیں سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے لیکن بیوا خواتین اپنے وظائف سے اور امام اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ وظائف اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کے انتخاب میں ہو رہی تاخیر کو قرار دیا جا رہا ہے۔

دراصل، دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کا اتوار کے روز انتخاب ہونا تھا لیکن محمد اقبال نامی شخص کے ہائی کورٹ چلے جانے کی وجہ سے یہ انتخاب آئندہ 19 نومبر تک ملتوی ہو گیا ہے۔ انتخاب ملتوی کئے جانے کی وجہ سے ان لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جن کے گھر کے خرچے کا دارومدار حاصل ہونے والے وظائف اور تنخواہ پر ہوتا ہے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے وقف بورڈ کی مساجد کے امام اور مؤذن چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ تقریباً 8 ماہ سے کئی سو بیواؤں کو بھی ملنے والا وظیفہ بند ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ 8 ماہ سے زائد سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والا عملہ بھی اپنی تنخواہوں سے محروم ہے جبکہ روزمرہ کی بنیاد پر جن سینکڑوں ضرورتمندوں کی مدد وقف بورڈ کر رہا تھا وہ ابھی مزید دو ماہ تک وقف بورڈ سے خالی ہاتھ واپس جاتے رہیں گے۔

اس بات کے بہت امکان ہیں کہ وقف بورڈ میں ہونے والا روز مرہ کا کام بھی ٹھپ ہو جائے کیونکہ ذرائع کے مطابق وقف بورڈ کے پاس فنڈ کی کمی ہے اور دستخط اتھارٹی نہ ہونے کی وجہ سے کاموں میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں کچھ افراد اپنے فائدہ کےلئے عدالت سے رجوع کر کے اس سارے عمل کو روکنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، وہیں دہلی کی کیجریوال حکومت بھی ان پریشانیوں کےتئیں غیر سنجیدہ ہے۔

واضح رہے اسمبلی انتخابات سےقبل کیجریوال حکومت نے دہلی کی مساجد کے امام اور موذن کی تنخواہوں میں اضافہ کااعلان کیا تھا لیکن انتخابات کے نتائج کے بعد سے حکومت کے رویہ میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

جب بھی وقف بورڈ میں چیئرمین کے انتخاب کی ہلچل ہوتی ہے تبہی کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ انتخاب میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ لیکر کورٹ پہونچ جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ وقف بورڈ کو اپنا چیئرمین نہ ملے اور اوقاف کی زمینوں پر نا جائز قبضے ہوتے رہیں۔ ایسی خواہش رکھنے والے عین اس وقت رکاوٹ ڈالتے ہیں جب انتخاب کا وقت بالکل قریب ہوتا ہے۔

بہر حال مارچ ماہ سے ہی وقف بورڈ بغیر چیئرمین کے کا م کر رہا ہے اور بغیر چیئرمین کے اس کی فعالیت میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے، جبکہ لاک ڈاؤن اور کورونا جیسی وبا کے وقت میں روزمرہ کی بنیاد پر دہلی وقف بورڈ سے مستفید ہونے والے ہزاروں ضروتمند وقف بورڈ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور سینکڑوں ضرورتمند وقف بورڈ کے دروازہ سے روز خالی ہاتھ یہ امید لیکر لوٹ جاتے ہیں کہ جلد ہی وقف بورڈ کو چیئرمین ملنے کے بعد ان کی ضرورت پوری ہوگی۔

(یو این آئی کے انپٹ کےساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔