کٹھوعہ، اُنّاؤ، سورت، اور اَب روہتک، نہیں رک رہی درندگی

بچیوں کے ساتھ بربریت کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہے لیکن روزانہ کہیں نہ کہیں سے ملک کو شرمسار کرنے والا واقعہ پیش آ ہی جاتا ہے۔ تازہ معاملہ روہتک کا ہے جہاں 8 سالہ بچی ظلم کا شکار ہوئی۔

By قومی آوازبیورو

ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہندوستان میں بچیاں اس قدر غیر محفوظ کبھی نہیں تھیں جتنا کہ آج ہیں۔ ایک طرف کٹھوعہ اور اُناؤ عصمت دری کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف روزانہ کہیں نہ کہیں سے بچیوں پر مظالم کی خبریں سامنے آ جاتی ہیں۔ گزرے کل ہی کی بات ہے کہ جب سورت میں بچی کے ساتھ ظلم کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دینے کا واقعہ پیش آیا تھا اور آج روہتک میں تقریباً 8 سال کی بچی کی ایک لاش برآمد ہوئی ہے جس کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اسے درندگی کا شکار بنایا گیا ہے۔ اس کے ایک ہاتھ کا پنجہ بھی کٹا ہواہے۔ جس طرح لگاتار بچیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے خلاف کسی نے جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

ہریانہ کے روہتک میں جس بچی کی لاش ملی ہے اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ 8 سے 10 سال کی ہوگی۔ یہ لاش ٹٹولی گاؤں کے نہر میں ایک تھیلے میں پڑی ہوئی تھی۔ لاش بہت بری حالت میں ہے اور پولس کے ساتھ ساتھ ایف ایس ایل کی ٹیم نے بھی موقع پر پہنچ کر معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ اس وقت نہ ہی بچی کی شناخت ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ پتہ چل سکا ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح کی حیوانیت ہوئی ہے۔ فی الحال معاملہ قتل کر کے لاش کو تہس نہس کرنے کا تصور کیا جا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد حقیقت سے پردہ اٹھنے کا امکان ہے۔ لیکن لاش جس حالت میں ملی ہے اور بچی کے اعضائے مخصوصہ پر چوٹ کے جس طرح کے نشانات دیکھنے کو مل رہے ہیں، عصمت دری کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

سورت میں گزشتہ روز بھی ایک بچی کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ ایسا ہی معاملہ دیکھنے کو ملا تھا۔ دراصل سورت کے ایک پارک میں 11 سالہ بچی کی لاش 6 اپریل کو ہی ملی تھی جسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا تھا اور گزشتہ روز اس رپورٹ میں پتہ چلا کہ اس کے جسم پر کم و بیش 86 چوٹ کے نشانات تھے اور کچھ نشانات اعضائے مخصوصہ پر بھی لگے ہوئے تھے جس سے عصمت دری کا اندازہ ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ بچی پر تقریباً ایک ہفتہ تک مظالم کیے گئے۔ اس بچی کی بھی شناخت ابھی تک نہیں ہو پائی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سورت پولس نے مہلوک بچی کی تصویر کے ساتھ 1200 پوسٹر لگائے ہیں۔ شہر اور ٹرینوں میں بھی بچی کی شناخت کے لیے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ مہلوک بچی کا ڈی این اے اور خون کا سیمپل بھی ڈاکٹروں نے لے لیا ہے۔

بچیوں کو درندگی کا شکار بنانے کے علاوہ بالغ خواتین بھی شر پسند عناصر کے ذریعہ استحصال کا شکار بن رہی ہیں۔ گزشتہ 14 اپریل کو پلول میں ہی 22 سالہ لڑکی کو کچھ لوگوں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے پر مار پیٹ کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں لڑکی نے پولس میں شکایت کی جس کے بعد پانچ نامزد ملزمین کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا اور جانچ کی جا رہی ہے۔