کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ: جانیں کب کیا ہوا؟

جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں نابالغ بچی کے ساتھ ہوئی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں پنجاب کے پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے، معاملہ میں 7 میں سے 6 ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

از: طہور حسین بٹ

جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں نابالغ بچی کے ساتھ ہوئی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں پنجاب کے پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے، معاملہ میں 7 میں سے 6 ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت سے باہر آئے وکیل نے کہا کہ ایک ملزم کے علاوہ تمام 6 ملزمان کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

معاملہ میں آنند دتا، دیپک کھجوریا، سانجی رام، تلک راج، سریندر اور پرویش مجرم قرار دئے گئے ہیں۔ ساتویں ملزم وشال کو عدالت کی طرف سے بری کر دیا گیا۔ جموں کے کٹھوعہ علاقہ میں گزشتہ سال جنوری کے مہینے میں آٹھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا تھا۔

جانیں اس معاملہ میں کب کیا ہوا؟

12 جنوری 2018:

جموں کے ہندو اکثریتی ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاؤں کے رہائشی اور گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے تھانہ ہیرا نگر میں شکایت درج کرائی کہ اُن کی آٹھ سالہ بیٹی 10 جنوری 2018 کو گھوڑے چرانے جنگل گئی، شام کے چار بجے گھوڑے واپس لوٹے لیکن لڑکی واپس نہ لوٹی۔ پولس نے شکایت پر ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی۔

17 جنوری 2018:

کمسن بچی کی لاش نزدیکی جنگل میں جھاڑیوں سے برآمد ہوئی۔ پولس نے بچی کی لاش اپنے تحویل میں لی اور ضلع ہسپتال کٹھوعہ میں پوسٹ مارٹم کے بعد آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے لواحقین کے حوالے کی گئی۔ جب مقتولہ بچی کے لئے رسانہ میں قبر کھودنا شروع کی گئی تو وہاں اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مخالفت کی جس کے بعد بچی کو قریب دس کلو میٹر دور ایک گاؤں میں دفنایا گیا۔ تحقیقات کے دوران پولس تھانہ ہیرا نگر نے عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام کے نابالغ بھتیجے کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا۔

22 جنوری 2018:

ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کردی۔ کرائم برانچ نے نابالغ ملزم کی جسمانی ریمانڈ حاصل کی اور اس کے انکشافات پر دیگر تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

کرائم برانچ کی طرف سے عدالت میں دائر کی گئی چارج شیٹ کے مطابق جنوری 2018 کے پہلے ہفتے میں سانجی رام نے رسانہ میں رہائش پزیر گجر بکروال کنبوں کو وہاں سے بھگانے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ سانجی رام نے محکمہ پولیس کے ایس پی او دیپک کھجوریہ اور اپنے نابالغ بھتیجے کو آٹھ سالہ بچی کو اغوا کرنے کا کام سونپا۔ نابالغ ملزم نے یہ پورا منصوبہ اپنے قریبی دوست پرویش کمار عروف منو کے ساتھ شیئر کیا اور اسے منصوبے کا حصہ بنایا۔

10 جنوری 2018:

سانجی رام کے بھتیجے (نابالغ ملزم) اور اس کے دوست پرویش کمار نے لڑکی کو اغوا کرکے منصوبے کے مطابق سانجی رام کے ذاتی مندر (دیوی استھان) پہنچایا، اسے زبردستی نشیلی ادویات کھلائیں جس کی وجہ سے کمسن بچی بیہوش ہوگئی۔ سب سے پہلے نابالغ ملزم نے کمسن بچی کا ریپ کیا۔ پھر پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ نے بھی لڑکی کا ریپ کیا۔

11 جنوری کو نابالغ ملزم نے میرٹھ کی سی سی یونیورسٹی سے وابستہ اور مظفرنگر ضلع میں واقع کالج میں زیر تعلیم سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو فون کیا اور کہا کہ وہ اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے رسانہ آسکتا ہے۔ وشال فوراً مظفرنگر سے نکلا اور 12 جنوری کی صبح رسانہ پہنچا۔ اس دوران سانجی رام نے پولس کی تحقیقاتی ٹیم کے اہلکاروں سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو کمسن بچی کا کیس رفع دفع کرنے کے لئے پیسوں کی پیشکش کر ڈالی جو اس نے قبول بھی کر لی۔

13 جنوری کی صبح کلیدی ملزم سانجی رام اور دیگر کچھ ملزمان دیوی استھان پہنچے اور وہاں پوجا کی۔ سانجی رام وہاں سے نکلا تو وشال جنگوترا اور نابالغ ملزم نے کمسن بچی کا ریپ کیا۔ گھر میں سانجی رام نے نابالغ ملزم کو کہا کہ حقیقی مقصد حاصل کرنے کے لئے بچی کے قتل کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔ سانجی رام کی ہدایت پر نابالغ ملزم، پرویش کمار اور وشال جنگوترا نے بچی کو دیوی استھان سے باہر نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا۔ اسی اثنا میں ایس پی او دیپک کھجوریہ بھی وہاں پہنچا اور دیگر تین ملزمان سے کہا کہ وہ بچی کو ابھی مار نہ دیں کیونکہ وہ ایک بار پھر ریپ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد دیپک کھجوریہ اور نابالغ ملزم نے بچی کو ایک بار پھر جنسی زیادتی کا شکار بنایا اور بالآخر بے دردی سے مار ڈالا۔ ایک دو دن لاش کو دیوی استھان میں رکھنے کے بعد نابالغ ملزم اور وشال جنگوترا نے لاش کو نزدیکی جنگل میں پھینک دیا۔

چارج شیٹ کے مطابق کرائم برانچ نے تحقیقات کے دوران 130 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے۔ اس کے مطابق سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج نے شواہد مٹانے اور ملزمان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ چارج شیٹ میں سانجی رام، اس کے بیٹے وشال جنگوترا، نابالغ بھتیجے، اس کے دوست پرویش کمار، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار (سریندر نے دیپک کھجوریہ کے اشاروں پر کام کیا تھا)، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو ملزم قرار دیا گیا۔

9 اپریل 2018:

کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن اور ینگ لائرز ایسوسی ایشن سے وابستہ درجنوں وکلاء نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کٹھوعہ کی عدالت کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی اور ہلڑبازی کرتے ہوئے کرائم برانچ کے عہدیداروں کو آصفہ کیس کا چالان پیش کرنے سے روک دیا۔ ہلڑبازی کے مرتکب وکلاء واقعہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کرائم برانچ کے عہدیدار بعد ازاں سی جے ایم کی رہائش گاہ پر پہنچے اور وہیں پر واقعہ کے ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا۔ پولیس نے وکلاء کی ہلڑبازی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ کے وکلاء کے خلاف آر پی سی کی دفعہ 353، دفعہ 147 اور دفعہ 341 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اگلے دن یعنی 11 اپریل کو جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر جموں بند رہا۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 'بند' کی کال کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر دی تھی۔

قبل ازیں فروری 2018ء میں کٹھوعہ کے ہیرا نگر میں اکثریتی طبقے سے وابستہ سینکڑوں افراد نے ’ہندو ایکتا منچ‘ نامی تنظیم کے بینتر تلے ملزمان کے حق میں گگوال سے سب ضلع مجسٹریٹ ہیرا نگر کے دفتر تک ترنگا بردار جلوس نکالا تھا۔ کمسن بچی کے عصمت ریزی و قتل واقعہ کی وجہ سے لال سنگھ اور دوسرے ایک بھاجپا لیڈر چندر پرکاش گنگا کو وزارتی کونسل سے استعفیٰ دینا پڑا۔ بی جے پی کے ان دو وزراء نے یکم مارچ 2018ء کو کٹھوعہ میں کمسن بچی کے عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔ کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ وزارتی کونسل سے استعفیٰ دینے کے بعد لال سنگھ نے بی جے پی سے ناراض ہوکر راہ بغاوت اختیار کی تھی اور کٹھوعہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کو لیکر احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کرنے لگے تھے۔ پھر انہوں نے 22 جولائی 2018ء کو 'ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن' نام سے نئی سیاسی جماعت لانچ کردی۔

کرائم برانچ کی طرف سے چارج شیٹ دائر کرنے کے بعد کیس کی ایک سماعت 16 اپریل 2018ء کو سیشن جج کٹھوعہ کی عدالت میں ہوئی تھی۔ جن ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، نے جج موصوف کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ بتاتے ہوئے نارکو ٹیسٹ (جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ) کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم متاثرہ کی فیملی کی جانب سے کیس کو چندی گڈھ منتقل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنی پہلی سماعت میں کیس کی کٹھوعہ عدالت میں سماعت پر روک لگائی تھی۔

سپریم کورٹ نے 7 مئی 2018ء کو کٹھوعہ کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اُس وقت کے چیف جسٹس جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بینچ نے یہ حکم سنایا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کٹھوعہ سنجیو گپتا نے 22 مئی 2018ء کو کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی پٹھان کوٹ منتقلی کے باضابطہ احکامات جاری کردیے تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر 31 مئی کو ڈسٹرک اینڈ سیشنز جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں کیس کی 'ان کیمرہ' اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Jun 2019, 1:02 PM