کٹھوعہ عصمت دری: عدالت نے ایس آئی ٹی کے 6 اراکین پر کسا شکنجہ، ایف آئی آر کی ہدایت

ایس آئی ٹی کے 6 اراکین پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملہ میں گواہوں کو جھوٹا بیان دینے کے لیے مجبور کیا۔ عدالت نے ان کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دیا ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

قومی آوازبیورو

کٹھوعہ عصمت دری معاملہ کو لے کر ایک انتہائی اہم خبر سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر کی ایک عدالت نے 2018 میں ایک بچی کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملہ کی جانچ کرنے والی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کے 6 اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ عدالت نے منگل کے روز پولس کو یہ ہدایت دی۔ ان 6 ایس آئی ٹی اراکین نے 8 سالہ بچی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے کی جانچ کی تھی اور الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے گواہوں کو جھوٹا بیان دینے کے لیے مجبور کیا۔

خبروں کے مطابق جیوڈیشیل مجسٹریٹ پریم ساگر نے کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری اور قتل واقعہ کے گواہوں سچن شرما، نیرج شرما اور ساحل شرما کی ایک عرضی پر جموں کے سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان 6 لوگوں کے خلاف سنگین جرم کا معاملہ بنتا ہے۔ عدالت نے فوری طور پر ایس ایس پی آر کے جلّا (اب ریٹائرڈ)، اے ایس پی پیر زادہ نوید، پولس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ شتمبری شرما اور نثار حسین، پولس کرائم برانچ کے ڈپٹی انسپکٹر عرفن وانی اور کیول کشور کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی اور جموں کے ایس ایس پی سے 11 نومبر کو معاملے کی آئندہ سماعت پر اس پورے عمل کی رپورٹ دینے کو کہا۔

قابل ذکر ہے کہ مذکورہ اجتماعی عصمت دری و قتل معاملہ میں ضلع و سیشن جج تیجوندر سنگھ نے اس سال جون میں تین اہم ملزمین کو تاعمر جیل کی سزا سنائی تھی جب کہ معاملہ میں ثبوت مٹانے کے لیے دیگر تین کو پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

Published: 23 Oct 2019, 12:11 PM