انصاف کے لیے دہلی کی خاک چھان رہے کٹھوعہ متاثرہ کے والد

محمد یوسف کٹھوعہ کیس میں امداد کے مقصد سے کھولے گئے جوائنٹ اکاؤنٹ کو سیز کیے جانے سے پریشان ہیں۔ انھوں نے قومی حقوق انسانی کمیشن سے اپیل کی ہے کہ اس اکاؤنٹ کو کھلوانے میں مدد کرے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

بھاشا سنگھ

جموں کے کٹھوعہ میں عصمت دری اور قتل کی شکار بچی کے والد محمد یوسف پر یہ خوف طاری ہے کہ انھیں اپنے جانوروں کے لیے رسانا میں پناہ نہیں ملے گی۔ 100 بکری، 100 بھیڑیں اور 15 گھوڑے رکھنے والے بکروال طبقہ کے محمد یوسف ملک کی راجدھانی دہلی میں قومی حقوق انسانی کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹانے اور یہ اپیل کرنے آئے تھے کہ ان کا جو بینک اکاؤنٹ سیل کر دیا گیا ہے اسے کھول دیا جائے۔ یہ جوائنٹ اکاؤنٹ متاثرہ بچی کے ساتھ ہوئے دردناک حادثہ کے بعد اس کی فیملی کو قانونی لڑائی جاری رکھنے کے لیے ملنے والی اقتصادی مدد حاصل کرنے کے لیے کھولا گیا تھا۔

جنوری 2018 میں ماری گئی متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف پہلی بار دہلی آئے ہیں اور اس وقت وہ بہت سہمے ہوئے سے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے وکیل مبین فاروقی بھی آئے تھے جو پٹھان کوٹ میں ان کے لیے پیروی کر رہے ہیں۔ مبین فاروقی نے ’قومی آواز‘ کو بتایا کہ یہ جوائنٹ اکاؤنٹ محمد یوسف اور متاثرہ بچی کے حقیقی والد محمد اختر کے نام پر کھلوایا گیا تھا تاکہ اس سے ان کی مدد کے لیے جو ملک بھر سے اقتصادی مدد مل رہی ہے وہ جمع ہو سکے۔ اس جوائنٹ اکاؤنٹ کو بینک نے سیز کر دیا ہے لیکن اس سلسلے میں افسران کے ذریعہ کوئی جانکاری گھر والوں کو نہیں دی گئی۔ اس واقعہ سے فیملی مزید پریشان حال ہو گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ جموں کے کٹھوعہ ضلع کے رسانا گاؤں میں 10 جنوری کو محمد یوسف کے ذریعہ گو دلی گئی تاثرہ بچی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے آٹھوں ملزمین فی الحال جیل میں ہیں۔ اس قتل کے بعد ہندو-مسلم طبقہ میں نفرت پھیلانے کی ناپاک کوشش کی گئی تھی اور بی جے پی و ان کے حامیوں نے کھل کر عصمت دری کے ملزمین کے حق میں شرمناک تحریک چلائی تھی۔ چونکہ وہاں وکیلوں کا ایک بڑا حصہ اس پولرائزیشن کا شکار ہو گیا تھا، اس لیے سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد کیس کو پٹھان کوٹ منتقل کر دیا گیا۔

بہر حال متاثرہ کے والد محمد یوسف کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ آخر ان کا اکاؤنٹ سیز کیوں کر دیا گیا۔ وہ پریشان اس لیے بھی ہیں کہ اس اکاؤنٹ میں بطور مدد جو پیسہ آ رہا تھا اسی سے وہ لوگ قانونی لڑائی لڑ رہے تھے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ تقریباً 10 جولائی کو محمد یوسف کے پاس جموں واقع ’جے اینڈ کے بینک‘ کے بھڈنگی برانچ سے فون آیا کہ اس اکاؤنٹ میں آنے والے پیسے کا ذریعہ معلوم نہیں ہورہا ہے، لہٰذا اکاؤنٹ سیز کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد کئی بار بینک جا کر کوشش کی گئی لیکن اکاؤنٹ نہیں کھلا۔ پھر انھوں نے مجبور ہو کر دہلی میں قومی حقوق انسانی کمیشن میں عرضی دی ہے۔

محمد یوسف کو اس بات کا خوف ہے کہ جس رسانا گاؤں میں وہ گزشتہ 30 سال سے رہتے آئے ہیں اور جہاں ان کا پختہ مکان ہے، وہاں اگر وہ مویشی پروری نہیں کر پائے تو ان کا کیا ہوگا۔ یوسف نے بتایا کہ گاؤں کے زمیندار جو انھیں اب تک اپنے چراگاہ دیتے تھے، بھیڑ، بکری اور گھوڑے چَرانے کے لیے وہ منع کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا ہےکہ ’’ وہ اب اپنے چراگاہ ہندوؤں کو دیں گے، مسلم بکروالوں کو نہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم پوری طرح سے برباد ہو جائیں گے۔ جانوروں کو کھانے کے لیے پتّیاں چاہیے، چرنے کے لیے جگہ چاہیے، وہ ہندو-مسلمان نہیں سمجھتے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے محمد یوسف کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور گلا رُندھ جاتا ہے۔

وکیل مبین فاروقی کا کہنا ہے کہ اس وقت رسانا سمیت آس پاس کے تمام چراگاہ والی جگہوں پر مسلم بکروالوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی بکروال ڈیرے تو اس بار آئے ہی نہیں۔ لیکن محمد یوسف کے پاس تو کوئی اور اڈہ ہی نہیں ہے کیونکہ ان کا گھر بھی یہی ہے اور مارچ تک اتنے جانوروں کی پرورش کا کوئی دوسرا ٹھکانہ بھی نہیں ہے۔ ایسے ماحول میں اکاؤنٹ سیز ہونے سے دقتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ دہلی میں ان کے کیس میں مدد کر رہے وکیل مرزوک کا کہنا ہے کہ اگر قومی حقوق انسانی کمیشن اس بارے میں بینک کو ہدایت دے دیتی ہے اور اکاؤنٹ سے سیز ہٹا دیتی ہے تو فیملی کے لیے زندہ رہنے کا کچھ سامان مہیا ہو جائے گا۔

Published: 12 Nov 2018, 8:09 PM
next