کشمیری جو چیز مانگیں گے وہ انہیں ملے گی: گورنر ستیہ پال ملک

ملک نے کہا کہ کشمیریوں کو مانگنے اور لینے کی عادت ڈالنی چاہیے، انہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی کا راست تذکرہ کئے بغیر کہا کہ تاریخ کا پہیہ کبھی الٹا نہیں گھومتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں اس وقت کشمیریوں کے لئے بہت ہمدردی ہے اور وہ جو چیز مانگیں گے وہ انہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو مانگنے اور لینے کی عادت ڈالنی چاہیے، انہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

گورنر موصوف نے یہ باتیں جمعرات کو یہاں ناظم باغبانی کشمیر کے دفتر کے احاطے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب کے دوران سیب کے کاشتکاروں کے متعلق ایک اسکیم متعارف کی گئی۔ گورنر ستیہ پال ملک نے اپنی ساڑھے دس منٹ طویل تقریر کے آخر میں کہا کہ 'تاریخ کا پہیہ کبھی الٹا نہیں گھومتا ہے۔ اس وقت دلی میں اتنی ہمدردی آپ کے لئے ہے، جو چیز مانگو گے وہ ملے گی۔ ہمیں مانگنے اور لینے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔ یہ ملک آپ کا ہے، آپ کو سب کچھ ملے گا۔ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے'۔

گورنر نے باغبانی شعبے سے وابستہ کاشتکاروں اور تاجروں کو دھمکانے والے عناصر کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ 'میں ایک بات یہاں وارننگ کے طور پر کہنا چاہتا ہوں۔ جو لوگ ہمارے کسان بھائیوں کو دھمکا رہے ہیں وہ جلدی سے اپنا رویہ بدل لیں ورنہ ہم اپنے کسانوں اور خریدنے کے سسٹم کو پوری سیکورٹی دیں گے، ان کی حفاظت کریں گے۔ جو ان کے ساتھ زیادتی کرے گا ان کو فوری سزا دیں گے۔ کسانوں اور کاشتکاروں کو دھمکایا نہ جائے۔ ہم زبردستی سیب نہیں خریدیں گے۔ لیکن اگر وہ بیچ رہا ہے اس کو آپ دھمکا رہے ہیں اس کی دو سال کی بچی کو بھی گولی مار رہے ہیں تو آپ بہت دن تک آزاد نہیں گھومیں گے'۔

گورنر کا اشارہ 6 ستمبر کو شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں پیش آئے واقعہ کی طرف تھا جہاں نامعلوم اسلحہ برداروں کی فائرنگ سے ایک میوہ تاجر کے کنبے کے چار افراد بشمول ایک دو سالہ بچی زخمی ہوگئے تھے۔ ستیہ پال ملک نے کسانوں کے لئے متعارف کی جانے والی اسکیم کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت سات لاکھ کنبے اور 35 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ اس اسکیم کے تحت سیب کے کاشتکاروں کو اچھی قیمتیں ملیں گی۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ کشمیر سیب کی پیداوار کے معاملے میں پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پورے ملک میں 75 فیصد سیب جموں وکشمیر سے آتے ہیں۔ ہماری پیداوار قریب بیس لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ یہ قریب آٹھ ہزار کروڑ روپے کا بزنس ہے۔ لیکن اس کو کوئی سیکورٹی نہیں تھی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'اب مرکزی حکومت نے ایک ایسا میکانزم معرض وجود میں لایا ہے جس کے تحت سیب کے کاشتکاروں کو اچھی قیمتیں ملیں گی۔ اس اسکیم سے سیب کی صنعت کے ساتھ وابستہ سات لاکھ کنبے اور 35 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ یہ ایک بہترین قسم کی اسکیم ہے'۔