کشمیری نوجوان ’موت کا راستہ‘ چھوڑیں اور امن کی راہ پر چلیں: پولس سربراہ دلباغ سنگھ

جموں وکشمیر پولس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے ’ہتھیار‘ کو موت کا راستہ قرار دیتے ہوئے کشمیری جنگجوئوں سے ملی ٹینسی کا راستہ ترک کرنے کی اپیل کی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر پولس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے 'ہتھیار' کو موت کا راستہ قرار دیتے ہوئے کشمیری جنگجوئوں سے ملی ٹینسی کا راستہ ترک کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں امن کی بحالی کے لئے ضروری ہے کہ مقامی نوجوان ملی ٹینسی چھوڑ کر امن کے راستے پر چلیں۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے راجپورہ اونتی پورہ میں تین مقامی جنگجوئوں کی ہلاکت کے ساتھ ہی وادی میں ذاکر موسیٰ کے انصار غزوۃ الہند کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس گروپ کی قیادت ذاکر موسیٰ کے ہاتھ میں تھی تب بھی یہ گروپ اپنی پہچان ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا۔

پولس سربراہ نے یہ باتیں بدھ کے روز یہاں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر کشمیر زون پولس کے انسپکٹر جنرل آف پولس سوئم پرکاش پانی کے علاوہ دوسرے سینئر پولس عہدیدار بھی موجود تھے۔ دلباغ سنگھ نے ان رپورٹوں جن کے مطابق وادی میں 31 اکتوبر، جس دن جموں وکشمیر اور لداخ نامی دو مرکزی زیر انتظام والے علاقے معرض وجود میں آئیں گے، سے پہلے موبائل فون خدمات پھر سے معطل ہوں گی، کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی اقدام زیر غور نہیں ہے۔

پولس سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ تعداد میں جنگجوئوں کو سرحد کے اس طرف دھکیلنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دراندازی کی چند کوششیں کامیاب ہوئی ہیں تاہم گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔

دلباغ سنگھ نے کشمیری جنگجوئوں سے ملی ٹینسی کا راستہ ترک کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: 'ہم آج بھی چاہیں گے کہ جو نوجوان غلط راستے پر چل پڑتے ہیں وہ اپنے ہتھیار چھوڑیں اور صحیح راستہ اپنانے کی کوشش کریں۔ ہتھیار موت کا راستہ ہے۔ ہتھیار موت دیتا ہے اور موت کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ ابھی کچھ بگڑا نہیں ہے۔ ذاکر موسیٰ کے رہتے بھی کوئی کام آسان نہیں ہوا تھا۔ ذاکر موسیٰ کے بعد اگر اس گروپ کی کمانڈ حمید للہاری کے ہاتھ میں آگئی تو بھی انہیں نقصان کے سوا کچھ ہاتھ میں نہیں آیا'۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'اس طرح کی سرگرمیاں روکنے میں ہم تب ہی کامیاب ہوسکتے ہیں جب یہاں کے مقامی نوجوان ملی ٹینسی کا راستہ چھوڑ کر امن کے راستے کو چنیں گے'۔

پولس سربراہ نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کشمیری نوجوان ملی ٹینسی کا راستہ اختیار کریں گے لیکن یہ خدشہ صحیح ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا: 'مجھے یہ کہنے میں بھی خوشی ہے کہ پانچ اگست کے بعد جو حالات یہاں بنے تھے اس کے چلتے لوگوں میں خدشات اور شکوک تھے کہ بڑی تعداد میں لوگ عسکری صفوں میں شامل ہوں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ جتنی تعداد میں نوجوان پانچ اگست سے قبل جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوتے تھے تاہم پانچ اگست کے بعد بہت کم تعداد میں نوجوان ملی ٹنسی کی طرف راغب ہوئے۔ اس عرصے کے دوران صرف پانچ سے چھ نوجوان غائب ہوئے۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ جنگجو بنے ہوں'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Oct 2019, 9:11 PM