کشمیری پنڈتوں نے کیا شاہین باغ کی خواتین مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی

کشمیری پنڈت جو کشمیر سے اپنے نکلنے کے 30 سال پورے ہونے پر پورے ملک میں احتجاج کر رہے تھے اس میں سے ایک گروپ شاہین باغ میں مظاہرین کے پاس پہنچا اور کہا کہ ہم سے بہتر آپ کے درد کو کون سمجھ سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

گزشتہ اتوار کی طرح اس اتوار کو بھی شاہین باغ میں ایک مہینے سے جاری مظاہرہ میں زبردست بھیڑ تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے مظاہرین نے پر امن انداز میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے ملک کے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ بھی اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔ شام سے ہی شاہین باغ جانے والی ہر سڑک پر بھیڑ تھی اور اوکھلا آنے والی ہر میٹرو کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔


شام کے وقت سینکڑوں لوگ جن میں خواتین اور بچے شامل تھے انہوں نے جامعہ یونیورسٹی سے شاہین باغ تک شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مارچ نکالا، انہوں نے اپنے ہاتھوں میں اس قانون کے خلاف اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حق میں کتبہ اٹھائے ہوئے تھے۔ کچھ مقامی لوگوں نے گاندھی اور بی آر امبیڈکر کی طرح لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ تین مظاہرین بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھدیو کی طرح خود کو بنائے ہوئے تھے اور ایک نظربندی کیمپ بھی بنایا ہوا تھا جس میں مختلف مذاہب کے لباس پہنے بچے بیٹھے ہوئے تھے۔


پوری دنیا میں مشہور ہو چکا شاہین باغ خواتین کا یہ مظاہرہ ہر نئے دن کے ساتھ نئےچہروں اور مقررین کا استقبال کرتا ہے۔ مقامی صحافی جاوید چھولسی کا کہنا تھا ’’لوگوں میں زبردست جوش تھا اور اب تک کی اس مظاہرہ میں سب سے زیادہ بھیڑ موجود تھی۔‘‘ کشمیری پنڈت جو کشمیر سے اپنے نکلنے کے 30 سال پورے ہونے پر کل پورے ملک میں احتجاج کر رہے تھے اس میں سے ایک گروپ شاہین باغ میں مظاہرین کے پاس پہنچا اور کہا کہ ’’ہم سے بہتر آپ کے درد کو کون سمجھ سکتا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیں بھی آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے۔‘‘ کشمیری پنڈت یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں موجود مظاہرین نے پورے جوش کے ساتھ ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ وہ حیران اس لئے ہوئے کیونکہ سماج کے ایک طبقہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو فرقہ وارانہ شکل دینے کی کوشش کی ہوئی ہے اور مسلمانوں کے تعلق سے یہ جھوٹ پھیلایا جاتا رہا ہے کہ وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے نہیں لگاتے۔

کل کے مظاہرہ میں بڑی تعداد میں فنکار، شاعر اور پینٹر موجود تھے۔ معروف شاعر گوہر رضا سمیت کئی شاعروں نے اس موقع پر اپنا کلام پیش کیا اور کئی پینٹرس نے وہاں پینٹنگ بنائیں۔ وہاں صبا سلطان آزاد اور انکور تیواری بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مزاح کے اپنے انداز کے لئے مشہور کنال کامرا نے بھی عوام سے خطاب کیا۔ کنال کامرا نے سی اے اے، این پی آر اور این آ ر سی کی ترتیب سمجھانے کے لئے ہرین پانڈیا، سہراب الدین اور جج لویا کی اموات کی ترتیب پر روشنی ڈالی۔


دیر رات تک چلنے والے شاہین باغ مظاہرہ نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب راغب کی ہوئی ہے اور اب پورے ملک میں جگہ جگہ شاہین باغ ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ خود ملک کی راجدھانی دہلی میں کئی مقامات پر خواتین اس قانون کے خلاف احتجاج میں پوری پوری رات ٹھنڈ میں بیٹھی ہوئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔