کشمیری لیڈر یوسف تاریگامی کا علاج ایمس میں کرایا جائے، سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ نے جمعرات کو مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاریگامی آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر کئے جانے کے بعد سے وادی کشمیر میں نظر بند ہیں۔ ان کی گرتی صحت کے پیش نظر عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ان کی صحت اولین ترجیح ہے۔

سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری کی کی طرف سے تاریگامی کی نظر بندی کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت سے پوچھا ہے کہ اس معاملہ پر اس کا موقف کیا ہے۔

یچوری کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجو رامچندرن نے عدالت کو بتایا کہ سرینگر کے اپنے حالیہ دورے کے دوران یچوری نے پایا کہ تاریگامی کی تحریک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان کی حفاظتی گاڑیوں کو بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ رامچندرن نے اس تعلق سے پروانہ حاضری کی عرضی کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

یچوری نے حراست میں لئے گئے اپنے پارٹی کے رہنما تاریگامی کی عیادت کےلئے وادی کشمیر کے اپنے دورے کے بعد سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا تھا۔ عدالت عظمی نے 28 اگست کو یچوری کو تاریگامی سے ملاقات کی اجازت فراہم کی تھی۔ حالانکہ عدالت نے انہیں ملاقات کے علاوہ کسی بھی طرح کی دیگر سرگرمی میں شامل ہونے سے روک دیا تھا۔

عدالت نے یہ حکم یچوری کی پروانہ حاضری ملزم جاری کرنے کی عرضی کے بعد دیا تھا، جس کے تحت 5 اگست کو آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد تاریگامی سے جاری تاریگامی کی نظر بندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

Published: 5 Sep 2019, 4:10 PM