’عزت نفس کے عوض قرض نہیں لیا‘ کشمیری تاجر کمیونٹی کا بینکوں پر ہراسانی کا الزام

ناصر حمید کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے تاجروں کو ڈفالٹر کہہ کر پکارا جارہا ہے۔ ان کے خلاف اخبارات میں اشتہارات دیئے جارہے ہیں۔ پولیس اور محکمہ مال کی ٹیمیں بھیج کر تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں جہاں سال رفتہ کے پانچ اگست کو پیدا شدہ صورتحال اور قبل ازیں 14 فروری کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سی آر پی ایف کے کانوائے پر ہونے والا ہلاکت خیز حملہ ملک کے اس واحد مسلم اکثریتی خطے کی معیشت کے لئے زہر ہلاہل ثابت ہوا اور یہاں کی معیشت کو زائد از 18 ہزار کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا وہیں وادی کے اقتصادی حالات ابھی پٹری پر آئے نہیں ہیں کہ بینکوں بالخصوص جموں وکشمیر بینک نے مبینہ طور پر تاجر کمیونٹی کو قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کے نام پر ہراساں کرنا شروع کردیا ہے۔

’عزت نفس کے عوض قرض نہیں لیا‘ کشمیری تاجر کمیونٹی کا بینکوں پر ہراسانی کا الزام

وادی کی 21 صنعتی، تجارتی، سیاحتی و دیگر انجمنوں نے گزشتہ روز سری نگر سے شائع ہونے والے اردو و انگریزی اخبارات میں ایک صفحے پر محیط ’گزارش‘ شائع کروائی جس میں کہا گیا کہ 'تاجر طبقے کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کے وجوہات کو ملحوظ نظر رکھنا بینکوں کے لئے لازمی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کوئی تاجر قرض کی ادائیگی سے منکر ہو لیکن بینکوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ تاجر طبقہ عزت و تکریم کا مستحق ہے اور انہیں غیر ضروری حد تک پریشان کرنا اور بدنام کرنا اُن کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ ہم اس رویے کے مستحق ہرگز نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اور ہمارے کنبوں کو ہراساں کرنے کا کوئی جواز ہے'۔

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ناصر حمید خان نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ بینکوں کی جانب سے کشمیری تاجروں کو ڈفالٹر کہہ کر پکارا جارہا ہے۔ ان کے خلاف اخبارات میں اشتہارات دیئے جارہے ہیں۔ پولیس اور محکمہ مال کی ٹیمیں بھیج کر تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہمیں بینکوں سے موجودہ حالات میں ایسے رویے کی امید نہیں تھی۔ ہمیں اس وقت ان کے سپورٹ کی ضرورت ہے۔ اس کو صرف بدقسمتی کا نام دیا جاسکتا ہے۔‘‘

ناصر حمید نے کہا کہ پانچ اگست 2019ء کے بعد کشمیر کی معیشت کو ایک بڑا دھچکا لگا اور تاجروں کا کاروبار ابھی بھی سنبھل نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا: 'بینکوں نے ریکوری اُس وقت شروع کی ہے جب وہ جانتے ہیں کہ یہاں کی معیشت کو پانچ اگست 2019ء کے بعد کتنا بڑا دھچکا لگا۔ تاجروں کا کاروبار پہلے سے ہی ٹھپ تھا لیکن اب انہیں گھروں سے بھی محروم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کا راست اثر تاجروں کے کنبوں پر پڑ رہا ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آج کاروباری طبقے کی فریاد کوئی سنتا ہی نہیں ہے'۔

بتادیں کہ مرکزی حکومت نے جب رواں برس کے پانچ اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے منسوخ کیں اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرکے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کیا تو ایک دن قبل ہی یعنی چار اگست کی شام کو کشمیر میں ہر طرح کی فون اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئیں اور وادی بھر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرکے ہر ایک علاقے میں پابندیوں کا اطلاق عمل میں لایا گیا۔ اگرچہ پابندیوں کو مرحلہ وار طریقے سے ہٹایا گیا لیکن پانچ اگست کے فیصلوں کے خلاف شروع ہونے والی ہڑتال قریب چار ماہ تک جاری رہی۔

ما بعد پانچ اگست وادی کی معیشت کو 18 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور چار سے پانچ لاکھ افراد روزگار سے محروم ہوئے یا دوسرے پیشوں کو اختیار کرگئے۔ وادی کو دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ قدغن کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں چیزیں درآمد کرنے والی انڈسٹریوں بالخصوص دستکاری شعبے کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔

اخبارات میں شائع کی گئی 'گزارش' جس کی سرخی ہے: اپنی عزت نفس کے عوض قرض نہیں لیا ہے' میں کہا گیا ہے کہ 'اس میں کوئی دورائے نہیں کہ تاجر طبقے کے پاس بینکوں کا پیسہ ہے، جسے ہر صورت میں ادا کرنا لازم ہے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تاجروں نے بینکوں کے ساتھ لین دین کرتے وقت اپنی عزت اور اپنا وقار گروی رکھا ہوتا ہے۔

دنیا کے ہر انسانی معاشرے میں تاجر طبقہ معیشت کو مضبوط کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور بالکل یہی کچھ ہمارے یہاں بھی ہوتا رہا ہے۔ جہاں تک بینکوں کے ساتھ تاجروں کے لین دین کا تعلق ہے، یہ دونوں فریقین کے لئے تجارتی فوائد کا حامل تعلق ہوتا ہے۔ یعنی اس لین دین پر دونوں فریقین یعنی تاجروں اور بینکوں کے نفع نقصان کا انحصار ہے۔ لیکن بدقسمتی سے 1990ء کے بعد مسلسل ناسازگار حالات کی وجہ سے ہماری تجارت اور معیشت پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوتے گئے۔ بلکہ ان حالات کی وجہ سے ہماری تجارت کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ یہ نقصانات اس قدر غیر معمولی اور وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں کہ ان کا حساب کتاب کرنا اب تقریباً محال ہے'۔

اس میں کہا گیا ہے: 'کیونکہ اس کا ازالہ کسی بھی صورت میں ممکن ہی نہیں ہے۔ ہماری تجارت کو درپیش ان غیر معمولی اور انتہائی پریشان کن حالات کا اعتراف خود کئی مرکزی اور ریاستی سرکاری وقتاً فوقتاً کرتی رہی ہیں۔ بلکہ کئی بار حکومتوں نے تاجر طبقے کو اس بدحالی سے نکالنے کے لئے اور یہاں کی تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں ایک نئی جان ڈالنے کے لئے موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج تک اس ضمن میں حکومتی سطح پر کوئی ایک بھی ایسا اقدام دیکھنے کو نہیں ملا، جس سے واقعی یہاں کی تجارت کو ازسر نو بحال کیا جاسکتا تھا۔ دور رس نتائج کا حامل ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں برسوں بلکہ دہائیوں تک شدید تناؤ اور دباؤ کا شکار تاجر طبقہ راحت کی سانس لے پاتا'۔

بینکوں اور انتظامیہ کے نام گزارش میں کہا گیا ہے کہ 'حالانکہ ان بدترین حالات میں بھی ہمارے تاجر طبقے نے کبھی بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ جب بھی تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور ان میں بہتری لانے کا کوئی وقفہ میسر ہوا، تاجر جانفشانی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی تجارت کی بازآبادکاری میں جٹ گئے۔ لیکن سال 2008ء کے بعد ہمیں ایسے کئی مراحل کا سامنا کرنا پڑا، جن کی وجہ سے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ہماری تجارت ناقابل بیان حد تک خستہ حالی کا شکار ہوتی گئی۔ سال 2014ء میں بدترین آفات سماوی نے رہی سہی کسر پوری کر دی'۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 'سال 2016ء میں ایجی ٹیشن اور سال رفتہ یعنی 2019ء میں نقل و حرکت پر قدغن کے نتیجے میں ہمارے یہاں تمام قسم کی تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں۔ ان حالات کے تناظر میں ریزرو بینک آف انڈیا) آر بی آئی ( نے ہمارے بینکوں کو ہمارے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ اور ہماری تجارت کی بازآبادکاری کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ تاجروں کے بینک کھاتے این پی اے کے زمرے میں نہ آجائیں۔ یہ آر بی آئی کی طرف سے ہمارے حالات کے حوالے سے ایک اعتراف ہے، لیکن بدقسمتی سے اس اعتراف اور تاجروں کو ان حالات سے باہر نکالنے کے حوالے سے مطلوبہ جوش وخروش دیکھنے کو نہیں ملا'۔

اس میں بینکوں سے گزارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'بہرحال بینکوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ متذکرہ حالات کے پیش نظر ہمیں ڈفالٹرس کے نام سے نہ پکاریں۔ کیونکہ جو کچھ ہورہا ہے تاجر طبقے کی منشا اور خواہشات کے عین برعکس ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس قدر ناسازگار حالات کے تسلسل کی وجہ سے ہماری تجارت پوری طرح سے داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ تاجر طبقے کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کے وجوہات کو ملحوظ نظر رکھنا بینکوں کے لئے لازمی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کوئی تاجر قرض کی ادائیگی سے منکر ہو لیکن بینکوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ تاجر طبقہ عزت و تکریم کا مستحق ہے اور انہیں غیر ضروری حد تک پریشان کرنا اور بدنام کرنا اُن کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ ہم اس رویے کے مستحق ہرگز نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اور ہمارے کنبوں کو ہراساں کرنے کا کوئی جواز ہے'۔

اس میں مزید کہا گیا ہےکہ 'اس لئے بینکوں کے افسران اور منتظمین سے گزارش ہے کہ وہ قرض کی وصولی کے عمل کے دوران اپنے ظرف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں بلکہ بالیدگی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ جن حالات سے ہمارے معاشرے کا ہر طبقہ فی الوقت جوجھ رہا ہے وہ کسی کے اختیار میں نہیں ہیں۔ یہاں کے تاجروں کی دلی خواہش ہے کہ دنیا کے ہر متمدن معاشروں کی طرح ہماری تجارت پھل پھول جائے اور ہمیں اپنے سماج کی معیشت کو مضبوط اور بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقعے میسر ہوں'۔

یہ 'گزارش' وادی کی سرکردہ صنعتی، تجارتی، سیاحتی انجمنوں جیسے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرنگ فیڈریشن، کشمیر اکنامک الائنس، فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریز کشمیر، پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ آنرس ایسوسی ایشن، کشمیر ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن، جموں اینڈ کشمیر ہوٹلرس کلب، کشمیر جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی آف کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس، آل کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن، آل کشمیر ٹور اینڈ ٹریولز ایسوسی ایشن، جموں اینڈ کشمیر فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل پراسسنگ ایند انٹیگریٹڈ کولڈ چین ایسوسی ایشن، ہاوس بوٹ آنرس ایسوسی ایشن، شہر خاص ٹریڈرس کارڈی نیشن کمیٹی، جموں اینڈ کشمیر ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن، جے اینڈ کے پرائیویٹ اسکول کارڈی نیشن کمیٹی، شوپیاں فروٹ منڈی ایسوسی ایشن، کشمیر گولڈ ایسوسی ایشن، آرٹزنس ری ہیبلٹیشن فورم، کشمیر اکنامک فورم اور جموں اینڈ کشمیر حج اینڈ عمرہ کمپنیز' کی طرف سے مشترکہ طور پر شائع کی گئی ہے۔