کشمیر: چار دنوں کے برف و باراں کے بعد موسم بہتر، 14 اور 15 مارچ کو مزید بارشوں کی پیش گوئی

وادی کشمیر میں چار دنوں کے برف و باراں کے بعد موسم میں بہتری واقع ہوئی ہے اور شبانہ درجہ حرارت میں بھی اضافہ درج ہوا ہے

کشمیر میں برف باری / تصویر یو این آئی
کشمیر میں برف باری / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں چار دنوں کے برف و باراں کے بعد موسم میں بہتری واقع ہوئی ہے اور شبانہ درجہ حرارت میں بھی اضافہ درج ہوا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں 14 اور 15 مارچ کو موسم ایک بار کروٹ بدل سکتا ہے جس کے باعث میدانی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں جبکہ بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موسم میں 16مارچ سے بہتری واقع ہونے کا امکان ہے۔ وادی میں ہفتے کی صبح سے ہی موسم خشک مگر ابر آلود رہا۔ چار دنوں کے مسلسل برف و باراں کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہونے سے لوگوں نے گرم لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور گھروں ، دفاتر اور کام کے دیگر مقامات پر گرمی کے الیکٹرک آلات کا ایک بار پھر استعمال کیا جا رہا ہے۔


چار دنوں کی مسلسل بارشوں سے وادی کے دریاؤں جھیل جھرنوں اور ندی نالوں میں پانی کہ سطح بڑھ گئی ہے۔ تاہم متعلقہ حکام نے سیلاب آنے کے خطرات کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی سطح معمول سے نیچے ہے۔ موسلا دھار بارشوں سے شہر و گام کی سڑکیں بھی سڑکیں کم جھیل جھرنے زیادہ نظر آرہی ہیں کیونکہ سڑکوں پر بنے گڑھوں میں اس قدر پانی جمع ہوا ہے کہ سڑکیں دکھائی ہی نہیں دے رہی ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ جب گاڑیاں سڑکوں کے ان گڑھوں پر چلتی ہیں تو اس سے اٹھنے والی چھینٹیں دور دور تک چلنے والے مسافروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر کہیں کا نہیں چھوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر پانی سے بھرے گڑھے اور کیچڑ راہگیروں کے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں خاص عمر رسیدہ افراد اور بچوں کا گھروں سے باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ دریں اثنا موسم میں بہتری کے ساتھ ہی شبانہ درجہ حرارت میں ایک بار پھر اضافہ درج ہوا ہے۔


محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 3.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ سری نگر میں جہاں ماہ جنوری میں سردیوں کا پچیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جب 31 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا وہیں ماہ فروری میں گرمیوں کا 57 سالہ ریکارڈ پاش پاش ہوگیا جب فروری کی ایک شب کم سے کم درجہ حرارت 8.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔

وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ جہاں قریب 50 سینٹی میٹر تازہ برف جمع ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککرناگ میں کم سے کم درجہ حرارت 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 13 Mar 2021, 2:13 PM