کشمیر میں پتھراؤ کی ڈرون سے عکس بندی، کورونا کی وجہ سے گرفتاریاں نہیں ہوئیں : دلباغ سنگھ

دلباغ سنگھ نے نے کہا کہ وسطی ضلع بڈگام کے نارہ بل میں ہوئی ایک عام شہری کی ہلاکت ایک بدقسمت واقعہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ تھا جس سے اجتناب کیا جاسکتا تھا اتنی جلد بازی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ
جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ ملی ٹنٹوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم آرائیوں پر دوبارہ پتھر بازی کا سلسلہ شروع کرنے والوں کی ڈرون کیمروں کے ذریعے عکس بندی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پتھر بازوں کی پہچان کی جارہی ہے تاہم کورونا کی وجہ سے فی الوقت ان کی گرفتاری کی کارروائیاں التوا میں ہیں۔

موصوف نے کہا کہ وسطی ضلع بڈگام کے نارہ بل میں ہوئی ایک عام شہری کی ہلاکت ایک بدقسمت واقعہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ تھا جس سے اجتناب کیا جاسکتا تھا اتنی جلد بازی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنگجووں کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے نہ کرنے کی وجہ کورونا پروٹوکال کو یقینی بنانا ہے۔

موصوف نے یہ باتیں جموں سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روزنامے کو دیئے گئے ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران کہی ہیں۔ دلباغ سنگھ نے جائے تصادم آرائیوں پر پتھر بازی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے والے پتھر بازوں کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں کہا کہ 'اب کہیں کہیں دوبارہ پتھر بازی شروع ہونے لگی ہے، ہم ڈورن کے ذریعے ان کی فوٹو گرافی کرتے ہیں، ان کی پہچان ہوئی ہے اور ان کے خلاف پرچہ بھی لگائے گئے ہیں، لیکن کووڈ کی وجہ سے گرفتاریوں کا سلسلہ رکا ہوا ہے کوئی بھی بچے گا نہیں۔

انہوں نے ’’میں کہنا چاہوں گا کہ وہ نوجوان جو پڑھے لکھے ہیں کے خلاف کیسز درج ہوں گے تو اُن کا مسقبل خراب ہوگا'۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹ جذباتی ماحول کو استعمال کرکے نوجوانوں کو بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہماری کوشش رہتی ہے کہ ایسے ماحول کو سمجھداری سے قابو میں پاکر امن وقانون کی صورتحال کو ہینڈل کریں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع کرکے لوگوں میں ڈر پیدا کیا جائے، وہ نئی نئی تنظیموں کو لانچ کررہے ہیں اور ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ البدر جیسی ملی ٹنٹ تنظیموں کو بھی دوبارہ زندہ کریں۔ سنگھ نے کہا کہ ہم نے بھی آپریشنز تیز کیے ہیں اور ماہ اپریل کے دوران ہی بارہ تصادم ہوئے جن میں تیس ملی ٹنٹ مارے گئے اور اب تک تمام ملی ٹنٹ تنظیموں کے سربراہوں کو بھی مارا جاچکا ہے۔

وادی میں بے نشان قبروں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 'پاکستان نے اب تک ہزاروں ملی ٹنٹ اپنی سر زمین سے یہاں بھیجے، اچھا ہوتا اگر ان کے ساتھ ان کا پتہ بھی بھیجتے تاکہ ان کی قبروں پر ان کا نام لکھ دیا جاتا، وادی میں یوں تو عام لوگوں کی قبریں بھی بے نشان ہوتی ہیں'۔ فور جی انٹرنیٹ کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کو ٹالتے ہوئے موصوف پولیس سربراہ نے کہا 'اس کے بارے میں بات نہ کرنا ہی اچھا ہے کیونکہ اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 May 2020, 3:40 PM