مودی کے دور میں بدتر ہوئے کشمیر کے حالات، ہر 2 ملی ٹینٹوں کی موت پر ایک جوان جان بحق

ساؤتھ ایشیا ٹریرزم پورٹل (ایس اے ٹی پی) پر موجود 2014 سے 2019 تک کے ڈیٹا کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ وادی کشمیر کے حالات 2018 کے بعد نہایت پُر تشدد اور بے قابو ہو گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سال 2014 میں بی جے پی حکومت کے برسر اقتدار آنے سے قبل نریندر مودی کی طرف سے ملک کے باشندگان کو تمام طرح کے سبز باغ دکھائے گئے تھے۔ مودی کے بے شمار وعدوں میں سے ایک وعدہ کشمیر میں قیام امن اور پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کا بھی تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تقریباً 5 سالوں میں نہ تو دہشت گردی کم ہوئی، نہ ہی پاکستان نے کوئی سبق سیکھا، آج مسئلہ کشمیر اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ حالات بے قابو نظر آ رہے ہیں۔ مودی کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ حال ہی میں اس وقت منظر عام پر آیا جب پلوامہ میں خود کش حملہ آوروں نے ایک دھاکہ کو انجام دیا اس حملے میں ہم نے اپنے 40 سے زیادہ سیکورٹی اہلکاروں کو کھو دیا۔

پلوامہ میں 14 فروری کو سی آر پی ایف کے قافلہ پر خود کش حملہ ہوا۔ عادل احمد ڈار نامی 20 سالہ مقامی ملی ٹینٹ نے 350 کلو بارود سے بھری گاڑی سی آر پی ایف کی بس سے ٹکرا دی۔ پاکستان سے چلنے والی ملی ٹینٹ تنظیم جیش محمد نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مودی کے دور حکومت میں گزشتہ سال جولائی 2018 میں ایک مسلح تصادم کے دوران ملی ٹینٹ کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے بعد سے وادی کشمیر کے حالات بگڑے اور بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ کشمیری نوجوان سڑکوں پر ہیں، ہر روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور ساتھ ہی فوجی جوان بھی شہید ہو رہے ہیں۔ اس دوران مودی حکومت نے جو کچھ بھی کیا وہ ناکافی ثابت ہوا ہے۔

پلوامہ میں سیکورٹی فورسز پر کیا گیا سب سے بڑا خود کش حملہ ہے، اسی طرح کا ایک حملہ جموں وکشمیر اسمبلی پر کار کے ذریعہ سال 2000 میں کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 38 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ اس کے ایک سال بعد 2001 میں ایک مقامی ملی ٹینٹ سری نگر کے بادامی باغ میں واقع کینٹ علاقہ میں دھماکہ خیز مادے سے بھری کار لے کر گھس گیا تھا۔ پلوامہ سمیت تینوں حملوں کو جیش محمد نے ہی انجام دیا ہے۔

نیوز 18 ہندی پر ساؤتھ ایشیا ٹریریزم پورٹل کے ایک تجزیہ کے حوالہ سے خبر شائع ہوئی ہے جس میں 2014 سے 2019 تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ گزشتہ سال چھوٹے بڑے کل ملا کر 205 حملے انجام دیئے گئے۔ جبکہ 2017 میں تشدد کے کل 164، 2016 میں 112، 2015 میں 88 اور 2014 میں 90 معاملات منظر عام پر آئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ہر تصادم میں اوسطاً 2 ملی ٹینٹوں کی موت پر ہمارا ایک جوان شہید ہو گیا، جبکہ 82 ملی ٹینٹوں کی موت پر 18 مقامی شہری بھی ہلاک ہو گئے۔

2014 سے لے کر 15 فروری 2019 تک کے اعداد و شمار کی بات کی جائے تو ان 5 سالوں میں 381 سیکورٹی جوان ملی ٹینٹوں کے نشانہ بنے۔ سب سے زیادہ حملے گزشتہ سال یعنی 2018 میں انجام دیئے گئے۔ 2018 میں ملی ٹینٹوں کے حملوں میں 91 فوجی ہلاک ہوئے اور 38 عام شہریوں کی جان چلی گئی۔ وزات داخلہ کے مطابق سال 2014 کے مقابلہ سال 2018 میں جموں و کشمیر میں شہریوں، سیکورٹی اہلکاروں اور ملی ٹینٹوں کی تعداد اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایس اے ٹی پی کے مطابق 2014 سے 2018 کے درمیان عام لوگوں کی ہلاکتوں میں 33.71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ 2014 کے مقابلہ 2018 میں 134 فیصد زیادہ ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا۔ سال 2014 میں کل 110 ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر 257 ہو گئی۔ مودی حکومت کے 5 سالوں میں 828 ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا،اس دوران جموں و کشمیر کے 1315 عام شہری بھی ہلاک ہو گئے۔ ان میں 138 (10.49 فیصد)، 339 (25 فیصد) سیکورٹی اہلکار اور 838 (63.72 فیصد) ملی ٹینٹ ہلاک ہوئے۔

Published: 21 Feb 2019, 9:10 PM