کشمیر: کورونا کے بیچ جنگجوؤں کی ہلاکت اور بھرتی میں نمایاں اضافہ

کورونا کی قہرسامانیوں کے بیچ جہاں جموں و کشمیر میں تمام تر معمولات زندگی مفلوج ہیں وہیں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان تصادم آرائیوں کے دوران جنگجوؤں کی ہلاکت کا سلسلہ نسبتاً تیز نظر آ رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: کورونا قہر کی قہرسامانیوں کے بیچ جہاں جموں وکشمیر میں تمام تر معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں وہیں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان تصادم آرائیوں کے دوران جنگجوؤں کی ہلاکت کے سلسلے میں نسبتاً تیزی ہی درج ہورہی ہے جس کے نتیجے میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ہی اب تک قریب 70 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جن میں بعض نامور کمانڈرس بھی شامل ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے بیچ کشمیر میں جنگجوؤں کی ہلاکتوں ہی میں اضافہ درج نہیں ہوا ہے بلکہ نوجوانوں کی طرف سے جنگجو تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے کا رجحان بھی ترقی پذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سال رواں کے ماہ اپریل کی 7 تاریخ تک مختلف علاقوں میں مسلح تصادم آرائیوں کے دوران 41 جنگجو ہلاک ہوئے تھے جبکہ ماہ رواں کی 13 تاریخ تک یہ تعداد 100 ہوگئی ہے۔

ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں رواں برس اب تک 100 جنگجو مارے جاچکے ہیں جن میں حزب المجاہدین اور جیش محمد کے بعض اعلیٰ کمانڈر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں سرگرم جنگجو ہتھیاروں کی قلت کے بحران سے دوچار ہیں اور حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجوؤں کو ہتھیاروں کی قلت کی وجہ سے خالی ہاتھوں لڑنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب اپریل کی 7 تاریخ تک صرف چھ نوجوانوں نے جنگجویت کی راہ اختیار کی تھی جبکہ ماہ رواں کے دوران اب تک یہ تعداد بھی بڑھ کر 44 ہوگئی ہے۔

سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ سال گذشتہ کے نصف برس تک ہونے والی جنگجو ہلاکتوں کی یہ تعداد سال رواں کی اسی مدت کی تعداد سے قدرے کم ہے لیکن امسال آپریشنز کے دوران بعض اعلیٰ کمانڈرس مارے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین سے وابستہ معروف کمانڈر ریاض نائیکو اور حریت کانفرنس کے لیڈر اشرف صحرائی کے فرزند جنید صحرائی شامل ہیں۔ بتادیں کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں گذشتہ ماہ ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں فون خدمات اور موبائل انٹرنیٹ خدمات ایک بار پھر بند کردی گئی تھیں۔

دریں اثنا حکام نے لاک ڈاؤن کے دوران جنگجوؤں کی لاشیں لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے انہیں غیر مقامی جنگجوؤں کے لئے مخصوص شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ اور وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع قبرستانوں میں دفنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ سیکورٹی حکام مقامی جنگجوؤں کی لاشوں کو اپنے آبائی علاقوں سے کوسوں دور غیر مقامی جنگجوؤں کے لئے مخصوص قبرستان میں دفنانے کو کورونا کے پھیلاؤ سے محفوظ رہنے کے لئے ایک قدم قرار دیتے ہیں جبکہ انسانی حقوق کارکنان اس کو غیر آئینی عمل گردان کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا کے دوران جتنے بھی جنگجو اب تک مارے گئے انہیں بارہمولہ یا گاندربل میں دفن کیا گیا ہے اگرچہ تجہیز وتکفین کے دوران لواحقین کو شرکت کی اجازت دی گئی لیکن انہیں قبر پر کسی قسم کے کتبے یا پتھر کو بطور نشان رکھنے کی اجازت نہیں دی جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران رونما پذیر تصادم آرائیوں میں درجنوں مکان تباہ بھی ہوئے جس کے نتیجے میں کئی کنبے بے گھر بھی ہوگئے تاہم مقامی سطح پر متاثرین کی مالی معاونت کے لئے کئی انجمنوں کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی لوگ سامنے آگئے۔

next