کشمیر: تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی کے باوجود نجی اسکولوں کا والدین سے گاڑی فیس کا مطالبہ!

بلال احمد نامی ایک والد نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں جب ٹیویشن فیس جمع کرنے گیا تو میں حیران ہوگیا، جب مجھ سے گاڑی فیس ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: وادی میں اگرچہ گزشتہ زائد از ڈیڑھ ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں بدستور متاثر ہیں لیکن نجی اسکولوں کے مالکان والدین سے ٹیویشن فیس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی فیس ادا کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ مختلف نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء کے والدین نے نجی اسکولوں کی انتظامیہ پر ان سے ٹیویشن فیس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی فیس ادا کرنے کا بھی مطالبہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بلال احمد نامی ایک والد نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں جب ٹیویشن فیس جمع کرنے گیا تو میں حیران ہوگیا، جب مجھ سے گاڑی فیس ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 'میں اپنے بچے کی فیس بھرنے کے لئے اسکول گیا جب میں نے ٹیویشن فیس جمع کی تو مجھ سے گاڑی کی فیس جمع کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 5 اگست سے ایک دن بھی اسکول کی گاڑی نہیں چلی'۔


شوکت احمد نامی ایک والد جس کا بیٹا سری نگر کے ایک نامور نجی اسکول میں زیر تعلیم ہے، نے کہا کہ مجھ سے بھی ٹویشن فیس کے علاوہ گاڑی کی فیس بھرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر میں نے اعتراض جتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں اسکول ٹیویشن فیس بھرنے کے لئے گیا جو ان کا حق ہے کیونکہ انہیں بھی اساتذہ کو تنخواہ دینی ہے لیکن وہاں مجھ سے گاڑی کی فیس ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا جس پر میں نے اعتراض جتایا اور گاڑی فیس ادا کرنے سے صاف انکار کیا کیونکہ جب گاڑی گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران کبھی آئی ہی نہیں تو اس کی فیس کیونکر'۔

یونس احمد نامی ایک والد نے کہا کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ بچوں سے نصاب اور ویڈیو لیکچرس حاصل کرنے کے لئے پن ڈرائیو وغیرہ لانے کو کہہ رہے ہیں جس کا ملنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ 'نجی اسکولوں کی انتظامیہ اخباری اشتہارات کے ذریعے متعلقہ اسکولوں سے بچوں کا نصاب اور ویڈیو لیکچرس حاصل کرنے کے لئے پن ڈرائیو وغیرہ لانے کا مطالبہ کرتے ہیں جو موجودہ حالات میں ہر کسی والد کے لئے ممکن نہیں ہے'۔ تاہم بڈگام کے ایک نجی اسکول مالک نے کہا کہ ہم نے والدین سے صرف ٹیویشن فیس جمع کرنے کو کہا گاڑی فیس کے بارے میں ہم بعد میں غور کریں گے کہ آیا ہم یہ فیس مکمل معاف کریں گے یا نصف وصول کریں گے کیونکہ ہم نے بھی تو ڈرائیوروں کو تنخواہ دینی ہے وہ پیسہ کہاں سے آئے گا'۔


بتادیں کہ وادی میں 5 اگست سے تعلیمی سرگرمیاں برابر متاثر ہیں تاہم بعض فرض شناس اساتذہ موجودہ حالات کے چلتے بھی اپنے فرض کے ساتھ کسی بھی حال میں کوتاہ اندیشی نہیں کر رہے ہیں بلکہ طلباء کو برابر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔