کشمیر: سرینگر کی جامع مسجد میں لگاتار 18 ویں ہفتہ نمازِ جمعہ نہیں ہو سکی

وادی کشمیر میں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات کی مسلسل معطلی کے ساتھ ساتھ پائین شہر سرینگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب لگاتار 18 ویں جمعے کو بھی خاموش رہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں غیر یقینی صورتحال و اضطرابی کیفیت کے مسلسل 124 ویں دن جمعہ کے روز جہاں بازار کہیں نصف دن تو کہیں نصف دن کے بعد کھلے رہے وہیں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات کی مسلسل معطلی کے ساتھ ساتھ پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب لگاتار 18 ویں جمعے کو بھی خاموش رہے۔

بتادیں کہ وادی کشمیر میں مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دوفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں خلاف غیر اعلانیہ ہڑتال کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے اثرات ہنوز جاری ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے جملہ اضلاع و قصبہ جات میں جمعہ کے روز بھی بازار کہیں نصف دن تک تو کہیں نصف دن کے بعد کھل جانے سے معمولات زندگی کبھی پٹری پر تو کبھی پٹری سے اتر آئے۔ شہر سری نگر کے تجارتی مرکز لاچوک اور ملحقہ بازاروں میں جمعہ کے روز گیارہ بجنے سے قبل ہی تمام دکانیں مقفل ہوئیں جبکہ پائین شہر کے تمام علاقوں کے بازاروں میں بارہ بجتے ہی ہو کا عالم سایہ فگن ہوا۔

ادھر اگرچہ وادی کے بازاروں میں دکانوں کے شٹر کبھی نیچے تو کھبی اوپر رہے لیکن سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل میں دن بھر کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع وادی کے قدیم معبد اور ہزاروں لوگوں کے لئے روحانی مرکز کی حیثیت رکھنے والی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل 18 ویں جمعے کو بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔

یو این آئی اردو کے نمائندے نے جامع کا دورہ کرکے بتایا کہ جمعہ کے روز بھی حسب دستور جامع مارکیٹ دوپہر کے بارہ بجتے ہی یکایک بند ہوا جبکہ جامع مقفل تھی اور جمع کے گرد وپیش سیکورٹی حصار برابر قائم و دائم تھا۔ اگرچہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے تاہم انجمن اوقاف جامع مسجد نے جامع میں نماز جمع کی ادائیگی کی بحالی کو جامع کے گرد سیکورٹی حصار کے ہٹانے سے مشروط کیا ہے۔

جامع مسجد کے امام حی سید احمد سعید نقشبندی نے گزشتہ ہفتے یو این آئی اردو کے ساتھ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی بحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع کے گرد سیکورٹی حصار ہٹائے جانے تک جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی بحال ہونا ممکن نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی فاروق عبداللہ کی رہائی کو جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی بحالی کی شرط قرار نہیں دیا۔

قابل ذکر ہے کہ جامع مسجد میں میرواعظ عمر فاروق نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد خصوصی خطبہ دیتے تھے جس سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مستفید ہوتے تھے اور انہیں اس خصوصی خطبے کا بے صبری سے انتظار بھی رہتا تھا۔ تاریخی جامع مسجد میں گزشتہ نصف صدی سے پیہم نماز جمعہ کی ادائیگی سے شرفیاب ہونے والے حاجی عبدالغنی نامی ایک سن رسیدہ نمازی نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ نہ صرف جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے ثواب سے محروم ہورہے ہیں بلکہ میرواعظ عمر فاروق کے بصیرت افروز خطبے سے بھی محروم ہورہے ہیں۔

وادی میں سرکاری دفاتر اور بنکوں میں کام کاج بحال ہوا ہے اور تعلیمی اداروں میں بھی امتحانات کے ساتھ ساتھ نئے تعلیمی سال کے لئے تعلیمی سرگرمیاں بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی ہیں۔ تاہم وادی کے تعلیمی اداروں میں پانچ اگست سے تدریسی سرگرمیاں بحال نہیں ہوسکیں۔ وادی میں اگرچہ مواصلاتی خدمات جزوی طور اور ریل سروس کلی طور پر بحال ہوئی ہے تاہم انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات مسلسل معطل ہیں جو لوگوں بالخصوص صحافیوں، طلبا اور تاجروں کے لئے ہرگزرتے دن کے ساتھ ساتھ روح فرسا ثابت ہورہی ہیں۔


ادھر وادی میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کی کئی ہفتوں سے جاری گرم افواہوں کے بیچ لیفٹیننٹ گورنر گریش چندار مرمو کے مشیر فاروق خان نے گزشتہ روز کہا کہ وادی میں 4 اگست سے مسلسل بند انٹرنیٹ خدمات کو بہت جلد بحال کیا جائے گا۔ وادی کے محبوس مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈروں کی جہاں ایک طرف رہائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہیں ڈاکٹر فاروق عبدللہ ان کے فرزند عمر عبدااللہ اور محبوبہ مفتی کو جموں منتقل کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ادھر گزشتہ دنوں انتظامیہ نے سنتور میں بند 33 لیڈروں کو سردی کے پیش نظر مولانا آزاد روڑ پر واقع ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کیا۔