کشمیر: سفری تاریخ چھپانے والے سماج کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، پولیس سربراہ

پولیس سربراہ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ہر شخص پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفری تاریخ خود ظاہر کرے۔ سفری تاریخ چھپانے والے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے اہل خانہ اور سماج کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جموں: جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ سفری تاریخ چھپانے والے افراد اپنے اہل خانہ اور سماج کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے سفری تاریخ چھپانے والوں کو سخت کارروائی کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ مثبت کیسز میں غیر معمولی اضافہ اسی کا شاخسانہ ہے۔

پولیس سربراہ نے اتوار کے روز یہاں میڈیا کو بتایا کہ 'میرا ماننا ہے کہ ہر ایک شخص پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفری تاریخ خود ظاہر کریں۔ سفری تاریخ چھپانے والے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے اہل خانہ اور سماج کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جن لوگوں نے ابھی تک اپنی سفری تاریخ ظاہر نہیں کی ہے ان کو فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کرنا چاہیے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'سفری تاریخ ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے ہی پرسوں سے کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں ہمیں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ جبکہ دو افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔ سفری تاریخ چھپانے سے گریز کیا جائے۔ چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی'۔

تاہم دلباغ سنگھ کے مطابق لوگ رضاکارانہ طور پر پولیس کو کال کرکے بیرون جموں وکشمیر سے آنے والے افراد سے متعلق تفصیلات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ مہم عوام تک پہنچ چکی ہے۔ ہمارے ڈائیل 100 اور 112 پر لوگ رضاکارانہ طور پر کال کرکے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں جگہ سے آیا ہے لیکن اس نے ابھی تک پولیس یا سول انتظامیہ کے ساتھ رابطہ نہیں کیا ہے۔ ایسی کالیں موصول ہونے پر فوری کارروائی کی جاتی ہے اور اپنی سفری تاریخ چھپانے والوں کو قرنطینہ مراکز میں لایا جاتا ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔