کشمیر: برف و باراں کے بعد موسم خوشگوار، مغل باغوں کی رونق بحال

متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی کشمیر میں 2 اپریل تک موسم خشک رہنے کی توقع ہے تاہم 28 اور 29 مارچ کو بالائی علاقوں میں ہلکے درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں چار دنوں کے برف وباراں کے بعد موسم بتدریج خوشگوار ہو رہا ہے جس سے مغل باغوں اور دیگر پارکوں کی رونق بحال ہونے لگی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں اگلے ایک ہفتے کے دوران موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔ متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی کشمیر میں 2 اپریل تک موسم خشک رہنے کی توقع ہے تاہم 28 اور 29 مارچ کو بالائی علاقوں میں ہلکے درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں۔ دریں اثنا وادی کشمیر میں جمعرات کے روز موسم خشک مگر ابر آلود رہا تاہم آفتاب بھی کئی بار بادلوں کی اوٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔

وادی میں چار دنوں کی موسلا دھار بارشوں سے جہاں شہر و گام کی سڑکیں اور گلی کوچے ہنوز زیر آب ہیں اور ندی نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ ابھی بھی تیز ہے، وہیں شہر سری نگر کے مختلف علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ شہر سری نگر میں اگرچہ گلی کوچوں اور دیگر جگہوں سے پانی کی نکاسی کا کام شروع کیا گیا ہے، لیکن سڑکوں کے گڑھوں میں جمع پانی راہگیروں کے لئے مسلسل وبال جان بنا ہوا ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ ناقص ڈرینیج نظام کی وجہ سے بارش کے پانی کی نکاسی نا ممکن ثابت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں شہر وگام کی سڑکیں کھنڈرات نظر آرہی ہیں جن پر پیدل چلنا بھی مشکل ہے۔


محمد عباس نامی ایک سومو ڈرائیور نے بتایا کہ سڑکوں کی حالت یہ ہے کہ گاڑی ایک گڑھے سے نکل کر دوسرے میں پھنس جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمائی سے زیادہ نقصان ہی ہوتا ہے اور ہم گاڑیوں کو گھروں میں ہی کھڑا رکھنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ادھر وادی میں موسم میں بہتری واقع ہوتے ہی مغل باغوں اور دیگر پارکوں میں لوگوں کا آنا جانا بحال ہوا۔ سری نگر کے رعناواری علاقے میں واقع مشہور ’بادام واری‘ میں بھی لوگوں کا ایک بار پھر رش بڑھنے لگا۔

بتادیں کہ بادام واری کو 21 مارچ یعنی نوروز کے دن لوگوں کے لئے کھول دیا گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 4.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ سری نگر میں جہاں ماہ جنوری میں سردیوں کا پچیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جب 31 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا وہیں ماہ فروری میں گرمیوں کا 57 سالہ ریکارڈ پاش پاش ہوگیا جب فروری کی ایک شب کم سے کم درجہ حرارت 8.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔


وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام جہاں قریب ایک فٹ تازہ برف جمع ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 5.7 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت 4.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔