سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

وادی کشمیر میں جاری ہڑتال جمعہ کے روز 47ویں دن میں داخل ہو گئی۔ اس دوران سری نگر کے پائین شہر میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کی گئیں اور جامع مسجد بدستور مقفل رہی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں جاری ہڑتال جمعہ کے روز 47 ویں دن میں داخل ہوگئی۔ اس دوران سری نگر کے پائین شہر میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کی گئیں۔ دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ نیز وادی بھر میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات ہے۔

وادی کی کچھ مساجد بالخصوص سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ زائد از 600 سال قدیم یہ مسجد 5 اگست سے مقفل ہے اور اس کے اردگرد سیکورٹی فورسز کا سخت پہرہ ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعہ کو مسلسل 47 ویں دن بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی گئی۔ تاہم جمعہ کو بھی سری نگر کے سول لائنز اور اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح سری نگر کے ڈاون ٹاون کا دورہ کیا نے بتایا کہ ڈاون ٹاون میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں عائد ہیں اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے ڈاون ٹاون میں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو اٹھائے گئے اقدامات جن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹائی گئی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنایا گیا، کے بعد سے وادی کشمیر میں معمول کی زندگی معطل ہے۔ ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بدستور منقطع ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ خدمات کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتا ہے۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

انتظامیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن بسوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین اور سری نگر کے دو تین ہسپتالوں کے عملے کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

وادی بھر میں تعلیمی ادارے گزشتہ زائد از ایک ماہ سے بند پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

وادی کشمیر میں 5 اگست سے مواصلاتی نظام بدستور معطل ہے جس کے باعث سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں خاص کر طلباء، صحافیوں اور تاجروں کو گوناں گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وادی میں اگرچہ لینڈ لائن فون خدمات بحال کی جاچکی ہیں تاہم موبائل فون خدمات بدستور معطل ہیں۔

مواصلاتی نظام پر جاری پابندی کے باعث لوگوں کو بیرون ریاست اپنے رشتہ داروں، زیر تعلیم طلباء وغیرہ کے ساتھ رابطہ کرنے میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیز وادی کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ بھی رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

وادی میں گزشتہ زائد از ایک ماہ سے ریل خدمات بھی برابر معطل ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق وادی میں گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹرین سروس کم وبیش ایک سال تک بند رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے تاحال ریلوے کو کم سے کم ایک کروڑ روپئے کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریل خدمات سرکاری احکامات پر معطل رکھی گئی ہیں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی بحال کی جائیں گی۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد بدستور مقفل، مسلسل ساتویں مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی

انتظامیہ نے بجز بی جے پی کے تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظر بند رکھا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ علاحدگی پسند لیڈران بھی خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔ وادی میں جاری موجودہ ہڑتال کی کال کسی جماعت نے نہیں دی ہے۔

Published: 20 Sep 2019, 4:10 PM