کشمیر فرضی تصادم: مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جائے، مہلوک نوجوانوں کے والدین کا مطالبہ

محمد یوسف نے کہا کہ 'دیگر دو مہلوکین بھی میرے قریبی قرابت دار ہی ہیں۔ ان میں سے سولہ سالہ محمد ابرار میری سالی کا بیٹا ہے جبکہ اکیس سالہ امتیاز احمد میرے سالے کا فرزند ہے'۔

کشمیر فرضی تصادم: مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جائے
کشمیر فرضی تصادم: مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جائے
user

یو این آئی

سری نگر: شوپیاں میں مبینہ فرضی تصادم میں مارے گئے راجوری سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کے لواحقین نے اپنے لخت ہائے جگر کی لاشوں کی واپسی پر سول و پولیس انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بتادیں کہ انتظامیہ نے شوپیاں مبینہ فرضی تصادم کے تین مہلوک نوجوانوں کی لاشوں کو زائد از 70 روز بعد ہفتے کو گانٹہ مولہ بارہمولہ، جہاں انہیں دفنایا گیا تھا، ورثا کے سپرد کیا۔

مہلوکین کے لواحقین کا اب مطالبہ ہے کہ ان نوجوانوں کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ انہیں انصاف مل جائے۔ مہلوکین میں سے ابرار احمد نامی نوجوان کے والد محمد یوسف، جو تینوں خاندانوں کے سرپرست ہیں، نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات کے روز اول سے ہی ہمیں سول و پولیس انتظامیہ پر پورا بھروسہ تھا کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ 'سول انتظامیہ، پولیس اور فوج کا مشکور ہوں کہ تحقیقات میں سرعت لائی گئی ہے۔ لاشوں کو ہمارے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی پورا کیا گیا ہے۔ اب ہمارا مطالبہ ہے کہ قاتلوں کو پھانسی کی سزا سنائی جائے'۔ محمد یوسف نے کہا کہ 'دیگر دو مہلوکین بھی میرے قریبی قرابت دار ہی ہیں۔ ان میں سے سولہ سالہ محمد ابرار میری سالی کا بیٹا ہے جبکہ اکیس سالہ امتیاز احمد میرے سالے کا فرزند ہے'۔

محمد یوسف نے اس واقعے کی تفصیلات یوں بیان کیں، 'مہلوک نوجوانوں ابرار احمد، محمد ابرار اور امتیاز احمد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ امتیاز احمد مزدوری کرنے کے لئے شوپیاں گیا ہوا تھا اور پھر اس نے فون کر کے ابرار احمد اور محمد ابرار کو بھی وہاں بلا لیا تاکہ وہ بھی مزدوری کر سکیں۔ دونوں یہاں سے 15 جولائی کو بسوئے شوپیاں روانہ ہوئے اور 130 کلو میٹر کا طویل اور دشوار گزار راستہ طے کر کے 17 جولائی کو وہاں پہنچے'۔


انہوں نے کہا کہ 'دونوں نے ہمیں رات آٹھ بجے فون کر کے شوپیاں پہنچنے کے بارے میں مطلع کیا لیکن پونے نو بجے سے ان کے ساتھ ہمارا فون رابطہ منقطع ہوگیا اور اسی رات کے دوران انہیں قتل کیا گیا'۔ موصوف نے کہا کہ تینوں نوجوانوں کے پاس شناختی دستاویز تھے لیکن ان کو چھپاتے ہوئے تینوں کی لاشوں کو شمالی ضلع بارہمولہ کے گانٹہ مولہ میں واقع غیر ملکی ملی ٹنٹوں کے لئے مخصوص قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔